تریاق القلوب — Page 221
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۲۱ تریاق القلوب گئی تھی۔ اور پھر جیسا کہ رسالہ ضیاء الحق کے اخیر ورق ٹائٹل پیج پر شائع کیا گیا ہے یہ لڑکا یعنی شریف احمد ۲۴ مئی ۱۸۹۵ء کو مطابق ۲۷ / ذیقعد ۱۳۱۲ھ پیدا ہوا یعنی پیشگوئی کے شائع ہونے کے بعد نویں مہینے پیدا ہوا۔ اور میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے اس کی نسبت پیشگوئی اشتہا ر ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی اور پھر انجام آتھم کے صفحہ ۱۸۳ میں بتاریخ ۱۴ ستمبر ۱۸۹۶ء یہ پیشگوئی کی گئی۔ اور رسالہ انجام آتھم بماہ ستمبر ۱۸۹۶ء بخوبی ملک میں شائع ہو گیا اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں اس شرط کے ساتھ کی گئی کہ عبد الحق غزنوی جو امرتسر میں مولوی عبدالجبار غزنوی کی جماعت میں رہتا ہے نہیں مرے گا جب تک یہ چوتھا بیٹا پیدا نہ ہوئے۔ اور اس صفحہ ۵۸ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عبد الحق غزنوی ہماری مخالفت میں حق پر ہے اور جناب الہی میں قبولیت رکھتا ہے تو اس پیشگوئی کو دعا کر کے ٹال دے۔ اور پھر یہ پیشگوئی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۱۵ میں کی گئی۔ سو خدا تعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لئے اور عبد الحق غزنوی کو متنبہ کرنے کے لئے اس پسر چہارم کی پیشگوئی کو ۴ ارجون ۱۸۹۹ء میں جو مطابق ۴ صفر ۱۳۱۷ ھ تھی بروز چارشنبہ پورا کر دیا یعنی وہ مولود مسعود چوک تھا لڑ کا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہو گیا۔ چنانچہ اصل غرض اس رسالہ کی تالیف سے یہی ہے کہ تا وہ عظیم الشان پیشگوئی جس کا وعدہ چار مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا تھا اس کی ملک میں اشاعت کی جائے کیونکہ یہ انسان کو جرات نہیں ہو سکتی کہ یہ منصوبہ سوچے کہ اول تو مشترک طور پر چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرے۔ جیسا کہ اشتہار ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اُس کے پیدا ہونے کی پیشگوئی کرتا جائے اور اس کے مطابق لڑ کے پیدا ہوتے جائیں۔ یہاں تک کہ چار کا عدد جو پہلی پیشگوئیوں میں قرار دیا تھا وہ پورا ہو جائے حالانکہ یہ پیشگوئی اس کی طرف سے ہو کہ جو محض افترا سے