تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 769

تریاق القلوب — Page 216

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۱۶ تریاق القلوب اگر مثلاً کوئی لڑکا الہام کے بعد دو تین مہینے میں ہی پیدا ہو جائے تو یہ شور مچاتے ہیں کہ پیشگوئی کرنے والا علم طبابت میں بھی دسترس کامل رکھتا ہے۔ لہذا اس نے طبیبوں کی قرار داده علامتوں کے ذریعہ سے معلوم کر لیا ہو گا کہ لڑکا ہی پیدا ہوگا کیونکہ حمل کے دن تھے۔ اور اگر مثلا کسی پسر کے پیدا ہونے کی پیشگوئی تین چار برس پہلے اُس کی پیدائیش سے کی جائے تو پھر کہتے ہیں کہ اس دور دراز مدت تک خواہ نخواہ کوئی لڑکا ہونا ہی تھا۔ تھوڑی مدت کیوں نہیں رکھی حالانکہ یہ خیال بھی سراسر جھوٹ ہے۔ لڑکا خدا کی عطا ہے اپنا دخل اور اختیار نہیں۔ اور اس جگہ ایک بادشاہ کو بھی دعوی نہیں پہنچتا کہ اتنی مدت تتک ضرور لڑ کا ہی پیدا ہو جائے گا بلکہ اس قدر بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت تک آپ ہی زندہ رہے گا اور یا یہ کہ بیوی زندہ رہے گی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں کی ہمیشہ کی وباؤں نے جو طاعون اور ہیضہ ہے لوگوں کی ایسی کمر توڑ دی ہے کہ کوئی ایک دن کے لئے بھی اپنی زندگی پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ علاوہ اس کے جو شخص تحدی کے طور پر ایسی پیشگوئی اپنے دعوے کی تائید میں شائع کرتا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تو خدا کی غیرت کا ضرور یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ابداً ایسی مرادوں سے اس کو محروم رکھے کیونکہ اُس کا ابتر اور بے فرزند مرنا اس سے بہتر ہے کہ لوگ اُس کی ایسی مکاریوں سے دھو کہ کھائیں اور گمراہ ہوں ۔ اور یہی عادۃ اللہ ہے جس کو ہمارے اہل سنت علماء نے بھی اپنے عقیدہ میں داخل کر لیا ہے۔ الغرض میں نے بار بار ان نکتہ چینیوں کو سن کر کہ چوتھا لڑکا پیدا ہونے میں دیر ہو گئی ہے جناب الہی میں تضرع کے ہاتھ اٹھائے اور مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری دعا اور میری متواتر توجہ کی وجہ سے ۱۳ را پریل ۱۸۹۹ء کو یہ الہام ہوا ۔ اصبر ملیا سأهب لك غلامًا زكيا -