تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 769

تریاق القلوب — Page 210

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۱۰ تریاق القلوب کہا کہ اپنے حصے میرے پاس فروخت کر دو اور میں مقدمہ کروں گا۔ چنانچہ اُن کو کچھ تھوڑا روپیہ دے کر خوش کر دیا اور ان سے ملکیت قادیاں کے مقد مے کرائے اور آپ ان کو مدد دی۔ میرا بھائی مرزا غلام قادر مرحوم جن کو اپنی فتح یابی پر بہت یقین تھا سرگرمی سے جواب دہی میں مشغول ہوئے اور چونکہ میں نے سنا ہوا تھا کہ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم نے ان دیہات پر ہزار ہا روپیہ خرچ کیا ہوا ہے اور شرکا ء اس خرچ میں کبھی شریک نہیں ہوئے۔ اس لئے میں نے بھی ان کی فتح یابی کے لئے دعا کی۔ اور دعا کے بعد یہ الہام ہوا ۔ اجیب کل دعائک الا فی شرکائک یعنی میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں ۔ تب میں گھر گیا اور تمام عزیزوں کو اکٹھا کیا اور اپنے بزرگ بھائی کو بھی بلا لیا اور یہ خدا تعالیٰ کا الہام سنایا لیکن افسوس کہ انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہمیں اس الہام سے پہلے سے اطلاع ہوتی تو ہم اس مقدمہ کو شروع ہی نہ کرتے ۔ اب کیا کریں کہ مقدمات کے پیچ میں ہم مبتلا ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں تھا کہ وہ میرے منہ کی باتوں پر پورا یقین کر سکتے۔ انجام یہ ہوا کہ گو ابتدائی عدالتوں میں انہوں نے فتح پائی مگر آخر چیف کورٹ میں فاش شکست ہوئی۔ اور شر کا ء اپنے اپنے حصوں کے مالک ٹھہرائے گئے ۔ اور قریباً سات ہزار روپیہ کی اُن کو زمیر باری ہوئی۔ اس پیشگوئی کے قادیاں میں بہت سے آدمی موافقوں اور مخالفوں میں سے گواہ ہیں جو حلف دینے پر اس میرے بیان کو تصدیق کر سکتے ہیں۔ ایک مرتبہ مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میرا بھائی مرزا غلام قادر مرحوم سخت بیمار ہے چنانچہ میں نے وہ خواب کئی لوگوں کے پاس بیان کئے جن میں سے اب تک بعض زندہ موجود ہیں۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ وہ برادر مرحوم سخت بیمار ہوئے تب میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے عزیزوں میں سے ایک بزرگ جو فوت ہو چکے تھے میرے لا