تریاق القلوب — Page 209
روحانی خزائن جلد ۱۵ 17 ۲۰۹ تریاق القلوب دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینہ اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ اس سے تو شفا پائے گا۔ چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا اور میں نے اسی طرح عمل کرنا شروع کیا جیسا کہ مجھے تعلیم دی تھی۔ اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ۳۸۶ ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن میں دردناک جلن تھی اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اس حالت سے نجات ہو ۔ مگر جب وہ عمل شروع کیا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلی مجھے چھوڑ گئی ۔ اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا ۔ جب صبح ہوئی تو مجھے مثله یہ الہام ہوا وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فأتوا بشفاء من م یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرو۔ یہ واقعہ ہے جس کی پچاس آدمی سے زیادہ لوگوں کو خبر ہے ۔ بعض ان میں سے مرگئے اور بعض ابھی تک زندہ ہیں جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں ۔ لیکن حلف اسی قسم کی ہوگی جس کا نمونہ نمبر دو میں مفصل ہے۔ اعظم بیگ نام ایک شخص لاہور کا باشندہ تھا جو کسٹرا اسسٹنٹ تھا۔ اُس نے اپنی حیلہ سازی سے ہمارے بعض بیدخل شرکاء کو جو ملکیت قادیاں کے کاغذات سرکاری کے رُو سے حصہ دار تھے مگر ملکیت سے بالکل بے تعلق تھے اور مقدمات قادیاں کے ہزار ہا روپیہ کے خرچ و حرج میں کسی کام میں شریک نہیں ہوئے تھے اُٹھایا اور