تریاق القلوب — Page 207
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۰۷ تریاق القلوب بلکہ پندرہ یا سولہ اُس کے ساتھ آدمی آئے ہیں جو گواہ تھے وہ سب کہتے ہیں کہ مقدمہ خارج ہوا۔ اور غیر ممکن ہے کہ اس قدر لوگ جھوٹ بولتے ہوں۔ اور وہ آریہ مسجد میں جو قریب بازار ہے یہ بات کہہ کر چلا گیا اور میں مسجد میں اکیلا رہ گیا اور عصر کا وقت تھا۔ تب ایک غیبی آواز کرنے والے نے زور سے کہا کہ ڈگری ہوگئی ہے اور ایسی شدت سے آواز تھی کہ میں نے خیال کیا کہ یہ آواز اوروں نے بھی سنی ہوگی تب میں اُس آریہ سے پھر ملا اور اپنے الہام سے اطلاع دی۔ مگر وہ گواہوں کی کثرت تعداد کو دیکھ کر اعتبار نہ کر سکا اور پھر بھی ہنس کر چلا گیا۔ گویا وہ اپنے دل میں میری خام خیالی پر ہنسا۔ دوسرے دن خود میں بٹالہ میں گیا اور تحصیلدار کے مثل خوان متھر اداس نامی سے دریافت کیا کہ ہمارے مقدمہ میں کیا حکم ہوا ؟ اُس نے کہا کہ ڈگری ہوئی۔ میں نے کہا کہ پھر کیا سبب ہے کہ جھنڈا سنگھ اور اُس کے تمام گواہوں نے قادیان میں جا کر یہ مشہور کیا ہے کہ مقدمہ خارج ہوا۔ اُس نے کہا کہ اُنہوں نے بھی ایک طور سے بیچ کہا۔ بات یہ ہے کہ تحصیلدار نیا ہے میری غیر حاضری میں وہ مقدمہ پیش ہوا تھا اور میں اتفاقاً قریب ڈیڑھ گھنٹہ تک کسی کام کو چلا گیا تھا چنانچہ اس وقت جب میں نہیں تھا جھنڈا سنگھ مدعا علیہ نے تحصیلدار کو صاحب کمشنر کا ایک فیصلہ دکھلایا جس میں لکھا ہوا تھا کہ قادیان کے دخیل کاروں کو اختیار ہے کہ بغیر مالکوں کی اجازت کے اپنے کھیتوں سے حسب ضرورت درخت کاٹ لیا کریں۔ اس لئے تحصیلدار نے اس کی نقل فیصلہ کو دیکھ کر آپ کا مقدمہ خارج کر دیا۔ اور اُن کو رخصت کر دیا تب قریب ایک گھنٹہ کے بعد میں آ گیا اور مجھے اُنہوں نے اپنا وہ حکم دکھلایا میں نے کہا کہ آپ کو اُس مد عاعلیہ نے دھوکہ دیا۔ یہ فیصلہ تو منسوخ شدہ ہے۔ اور اس کے بعد میں صاحب فنانشل کمشنر کا فیصلہ ہے جو شامل مثل ہے جس سے یہ حکم منسوخ کیا گیا ۔ تب تحصیلدار نے وہ فیصلہ دیکھ کر