تریاق القلوب — Page 206
تریاق القلوب ۲۰۶ روحانی خزائن جلد ۱۵ کے حالات کے مندرج تھی ۔ پھر وہ کتاب مجھ کو دکھلائی اور کہا کہ میں اس کو بڑے اہتمام سے محفوظ رکھتا ہوں کہ اس سے خدا کی قدرت یاد آتی ہے۔ اور پھر دوسرے دن صبح کے وقت فوت ہو گئے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ نوٹ بک ان کی جس کو بڑے اہتمام اور محبت سے وہ اپنے پاس رکھتے تھے۔ اب لدھیانہ میں ان کے بیٹے کے پاس محفوظ ہوگی اور ضرور ہوگی۔ سود یکھو کس کس پہلو سے خدا تعالی کے نشان ظاہر ہوئے ہیں۔ راجہ جہاں داد خانصاحب جو اب گوجرانوالہ میں اکسٹرا اسٹنٹ ہیں اور اپنے نواح کے رئیس اعظم اور بہت سے دیہات کے جاگیردار ہیں ایک نشان کے وہ گواہ ہیں جس کے پورا ہونے پر انہوں نے بیعت کی۔ اگر حالفا پو چھا جائے تو ہر گز انکار نہیں کریں گے۔ ایک مرتبہ مجھے اپنے ایک زمینداری مقدمہ کے متعلق جو تحصیل بٹالہ میں دائر تھا۔ خواب آئی کہ جھنڈا سنگھ نام ایک دخیل کار پر جو دفعہ ۵ ایکٹ مزارعان کا دخیل کا ر تھا۔ ہماری ڈگری ہو گئی ہے۔ اُس دخیل کار پر بوجہ قیمت ایک درخت کیکر جس کو اُس نے ۱۴ اپنے کھیت سے ہماری اجازت کے بغیر کاٹ لیا تھا ۔ ا ر روپیہ کی نالش کی گئی تھی۔ سوخواب میں دکھایا گیا کہ وہ دعویٰ مسموع ہو کر ڈگری کی گئی ۔ اتفاقاً میں نے اس خواب کو اُسی آریہ کے پاس بیان کیا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں یعنی لالہ شرمیت کھتری ساکن قادیاں۔ پھر دوسرے دن ایسا اتفاق ہوا کہ جھنڈا سنگھ مذکور مع سولہ یا سترہ اپنے گواہوں کے مقدمہ مذکورہ میں اپنی تائید میں شہادت دلا کر بٹالہ سے قادیاں میں واپس آیا اور یہ مشہور کیا کہ مقدمہ خارج ہوا۔ اس پر آر یہ مذکور نے ہنسی کے طور پر کہا کہ آپ کی خواب غلط گئی اور نالش ا ر روپیہ تحصیل سے خارج ہوئی ۔ میں نے اس کو کہا کہ اُس نے یقیناً جھوٹ بولا ہے ۔ تب اُس نے کہا کہ وہ اکیلا نہیں ۱۳ ۱۴