تریاق القلوب — Page 205
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۰۵ تریاق القلوب ہو گیا اور نواب صاحب کی سرائے بریکار ہو گئی جس سے ان کو بہت تکلیف پہنچی۔ انہوں نے اس مصیبت کے وقت دعا کے لئے میری طرف التجا کی اور قبل اس کے جوان کا خط قادیان میں پہنچے میرے پر خدا نے ظاہر کر دیا کہ اس مضمون کا خط اُنہوں نے روانہ کیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی کہ کچھ عرصہ کے لئے ان کی یہ روک اُٹھا دی جائے گی اور اس غم سے ان کو نجات دی جائے گی۔ چنانچہ میں نے اس تمام حال سے قبل از وقت اُن کو خبر کر دی۔ اور ان کو یہ سخت تعجب ہوا کہ میرا خط جو بلا توقف روانہ کیا گیا تھا اس کا علم کیونکر ہو گیا؟ اور پھر اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے ایک عجیب رنگ کا اعتقاد میری نسبت اس کے دل میں بیٹھ گیا۔ اور وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتا تھا کہ میں نے اپنی نوٹ بک میں اس پیشگوئی کو یادداشت کے لئے لکھ چھوڑا ہے اور ہمیشہ اس کو پڑھ لیا کرتا ہوں اور کئی لوگوں کو اُس نے اپنی یہ کتاب دکھلائی اور ایک دن میرے روبرو پٹیالہ میں وزیرمحمد حسین خانصاحب کو بھی کتاب میں وہ موقعہ دکھلایا اور ان کو کہا کہ میرے یقین کے لئے یہ کافی ہے کہ میرے خط کی اطلاع خدا تعالیٰ کی طرف سے خط پہنچنے سے پہلے مل گئی جس کی مجھ کو بلا توقف خبر دی گئی۔ اور دوسرے یہ کہ یہ میرا کام جو بظاہر ایک ناشدنی امر تھا اس کے ہو جانے کی قبل از وقت اطلاع دے دی۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہ علم جو قدرت کے ساتھ ملا ہوا ہے بجز خدا کے اور کسی کی طاقت میں نہیں۔ ایسا ہی نواب صاحب موصوف کا اخیر زندگی تک ہمیشہ یہ حال رہا کہ اس پیشگوئی کی یاد سے ان کو ایک وجد کی حالت ہو جاتی تھی اور ہمیشہ اس کو پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ جب ان کی موت کا وقت آیا اور میں عیادت کے لئے گیا تو اس شام کے وقت جس کی صبح میں ان کا انتقال ہونا تھا اُنہوں نے مجھ کو دیکھ کر یہ ہمت کی کہ با وجود سخت تکلیف خون بواسیر کے جس کی کثرت سے اُن کی وفات ہوئی اندر کے دالان میں چلے گئے اور وہ نوٹ بک اپنی لے آئے جس میں وہ پیشگوئی مع اُس کے پورا ہو جانے