تریاق القلوب — Page 200
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۹ ۲۰۰ تریاق القلوب ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور اس بات کے گواہ بھی بعض قادیان کے ہندو اور کئی سو مسلمان ہوں گے جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں اور اس قسم کے نشان دو ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ حاجات کے وقت میں میرا متولی اور متکفل ہوتا رہا ہے۔ اور اکثر عادت انہی مجھ سے یہی ہے کہ وہ پیش از وقت مجھے بتلا دیتا ہے کہ وہ دنیا کے انعامات میں سے کسی قسم کا انعام مجھ پر کرنا چاہتا ہے اور اکثر وہ مجھے بتلا دیتا ہے کہ کل تو یہ کھائے گا اور یہ پئے گا اور یہ تجھے دیا جائے گا۔ اور ویسا ہی ظہور میں آجاتا ہے کہ جو وہ مجھے جلاتا ہے ۔ اور ان باتوں کی تصدیق چند ہفتہ میرے پاس رہنے سے ہر ایک شخص کر سکتا ہے۔ ایسے نشان شیخ حامد علی مذکور اور لالہ شرمپت اور ملا وامل نے بہت دیکھے ہیں اور وہ حسب نمونہ قسم نمبر ۲ حلفاً بیان کر سکتے ہیں اور میری جماعت کے دوستوں میں سے کوئی کم ہوگا جس نے ایک دو مرتبہ چشم خود ایسا نشان نہ دیکھا ہوگا۔ ☆ عرصہ تخمیناً اٹھارہ برس کا ہوا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر چند آدمیوں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اس بات کی خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ انا نبشر بغلام حسین۔ یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکے کے عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں ۔ میں نے یہ الہام ایک شخص حافظ نور احمد امرتسری کو سنایا جواب تک زندہ ہے اور بباعث میرے دعویٰ مسیحیت کے مخالفوں میں سے ہے ۔ اور نیز یہی الہام شیخ حامد علی کو جو میرے پاس رہتا تھا سنایا ۔ اور دو ہندوؤں کو جو آمد و رفت رکھتے تھے یعنی شرمیت اور ملا وامل ساکنان قادیاں کو بھی سنایا۔ اور لوگوں نے اس الہام سے تعجب کیا کیونکہ میری پہلی بیوی کو عرصہ میں سال سے اولاد ہونی موقوف ہو چکی تھی اور دوسری کوئی بیوی نہ تھی ۔ لیکن حافظ تریاق القلوب ایڈیشن اول میں یہ الہام یونہی لکھا ہے جبکہ تریاق القلوب میں حضور علیہ السلام کے کئے ہوئے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے كہ ك سہو کتابت سے لکھنے سے رہ گیا ہے۔ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے اپنے مرتب کردہ مجموعہ الہامات البشری کے صفحہ ۳۸ پر اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تذکرہ ایڈیشن اول کے صفحہ ۳۵ پر تریاق القلوب صفحہ ۳۴ کا ہی حوالہ دیتے ہوئے انا نبشرک تحریر فرمایا ہے۔(ناشر)