تریاق القلوب — Page 199
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۹۹ تریاق القلوب میرے والد صاحب کی وفات قبل از غروب آفتاب ہوئی۔ باوجود اس کے کہ وہ بیماری سے صحت پاچکے تھے اور قومی تھے اور کچھ آثار موت ظاہر نہ تھے اور کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک برس تک بھی فوت ہو جائیں گے لیکن مطابق منشاء الہام سورج کے ڈوبنے کے بعد انہوں نے انتقال فرمایا۔ اور پھر دوسرا الہام یہ پورا ہوا کہ والد مرحوم و مغفور کی وفات سے مجھے کچھ دنیوی صدمہ نہیں پہنچا جس کا اندیشہ تھا بلکہ خدائے قدیر نے مجھے اپنے سایہ عاطفت کے (۳۳) نیچے ایسا لے لیا کہ ایک دنیا کو حیران کیا اور اس قدر میری خبر گیری کی اور اس قدر وہ میرا متونی اور متکفل ہو گیا کہ باوجود اس کے کہ میرے والد صاحب مرحوم کے انتقال کو چومیں برس آج کی تاریخ تک جو ۲۰ اگست ۱۸۹۹ء اور ربیع الثانی ۳۱۷ادہ ہے گذر گئے ہر ایک تکلیف اور حاجت سے مجھے محفوظ رکھا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ میں اپنے والد کے زمانہ میں ایک گمنام تھا۔ خدا نے اُن کی وفات کے بعد لاکھوں انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور میں والد صاحب کے زمانہ میں اپنے اقتدار اور اختیار سے کوئی مالی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ اور خدا تعالیٰ نے ان کے انتقال کے بعد اس سلسلہ کی تائید کے لئے اس قدر میری مدد کی اور کر رہا ہے کہ جماعت کے درویشوں اور غریبوں اور مہمانوں اور حق کے طالبوں کی خوراک کے لئے جو ہر ایک طرف سے صد با بندگان خدا آ رہے ہیں اور نیز تالیف کے کام کے لئے ہزار ہا روپیہ بہم پہنچایا اور ہمیشہ پہنچا تا ہے اس بات کے گواہ اِس گاؤں کے تمام مسلمان اور ہندو ہیں جو دو ہزار سے کچھ زیادہ ہوں گے۔ ایسا اتفاق دو ہزار مرتبہ سے بھی زیادہ گذرا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری حاجت کے وقت مجھے اپنے الہام یا کشف سے یہ خبر دی کہ عنقریب کچھ روپیہ آنے والا ہے اور بعض وقت آنے والے روپیہ کی تعداد سے بھی خبر دے دی ۔ اور بعض وقت یہ خبر دی کہ اس قدر روپیہ فلاں تاریخ میں اور فلاں شخص کے بھیجنے سے آنے والا ہے اور ا ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے قبل از غروب آفتاب لکھا گیا ہے جبکہ کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر۱۳ صفحہ ۱۹۵ میں بعد از غروب آفتاب ہے جو الہام والسماء والطارق کے مطابق درست ہے (ناشر)