تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 769

تریاق القلوب — Page 196

روحانی خزائن جلد ۱۵ 3 ١٩٦ تریاق القلوب آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی ہو جا۔ یہ الہام اس کو اور کئی آدمیوں کو سنایا گیا اور بیان کیا گیا کہ وہ اس مرض سے شفا پا جائے گا۔ چنانچہ اس الہام کے بعد ایک ہفتہ کے اندر ہی وہ ہندو شفا پا گیا۔ یہ آریہ بھی یعنی ملا وامل بباعث مذہبی عناد اور تعصب کے جس کا آج کل آریوں کو سبق دیا جاتا ہے ہر گز بیچ نہیں بولے گا کیونکہ ان لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ دوسری قوم کے مقابل پر جھوٹ بولنا یا سچی گواہی کو بہر حیلہ چھپانا ثواب سمجھتے ہیں لیکن اگر اس کو بھی وہی اولاد کی قسم دی جائے جس کا ذکر ابھی ہم نے شرمیت کی قسم میں کیا ہے تو پھر ممکن نہیں کہ جھوٹ بولے کیونکہ ان لوگوں کو خدا کی نسبت اولا د زیادہ پیاری ہے۔ جس شخص کے نزدیک جھوٹ اور اخفاء حق اور گواہی کو چھپانا مذہب کے لئے سب روا بلکہ پر میشر کی خوشی کا باعث ہو ۔ اس کا بجز اس کے کیا علاج ہے کہ اولاد کی قسم اس کو دی جائے۔ اور یہ پیشگوئی بھی عرصہ بیس برس سے ہماری کتاب براہین احمدیہ میں مندرج ہو کر لاکھوں انسانوں میں شہرت پا چکی ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۲۷ و ۲۲۸ براہین احمدیہ۔ شیخ حامد علی ساکن تهہ غلام نبی ضلع گورداسپورہ جو ایک مدت تک میرے پاس رہا ہے اور بہت سے نشانوں کا گواہ ہے ایک یہ نشان اس کے رو برو ظہور میں آیا کہ ظہر کی نماز کا وقت تھا کہ یکدفعہ مجھے الہام ہوا کہ ترى فخذا اليما ۔ یعنی تو ایک دردناک ران دیکھے گا۔ تب میں نے یہ الہام اُس کو سنایا۔ اور پھر بعد اس کے بلا توقف میں نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہونے لگا اور وہ بھی میرے ساتھ ہی زینہ پر سے اترا۔ جب ہم زینہ پر سے اُتر آئے تو دو گھوڑوں پر دولڑ کے سوار دکھائی دئے جن کی عمر بیس برس کے اندراندر ہوگی ۔ ایک کچھ چھوٹا اور ایک بڑا۔ وہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہمارے پاس آکر کھڑے ہو گئے ۔ اور ایک نے اُن میں سے مجھے کو کہا کہ یہ دوسرا سوار میرا بھائی ہے ۳۳