تریاق القلوب — Page 162
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۲ تریاق القلوب کیا۔ انہوں نے یہ جواب لکھا ہے کہ کبھی کسی نبی نے یہودیوں کو ایسے جسمانی خدا کے ظاہر ہونے کی امید نہیں دلائی۔ اور ایسا اعتقاد صریح شرک اور کفر اور توریت کی تعلیم کے مخالف ہے۔ ان فاضل یہودیوں کے خطوط ہمارے پاس موجود ہیں اگر یہ کہو کہ یہودی تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منکر ہیں تو پھر ایسے یہودیوں کی گواہی کا کیا اعتبار ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہودی اصل پیشگوئی سے منکر نہیں ہیں اور اس بات کو مانتے ہیں کہ جیسا کہ توریت میں خبر دی گئی ہے مثیل موسیٰ ضرور آنے والا ہے۔ ہاں یہودیوں کے ان موجودہ دو فرقوں نے جو یہودیوں کے باراں فرقوں میں سے باقی رہ گئے ہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کم فہمی اور تعصب سے مثیل موسیٰ نہیں مانا مگر اصل پیشگوئی سے انکار تو نہیں کیا لیکن ایسی پیشگوئی کے وجود سے تو وہ قطعاً منکر ہیں جو کسی خدا کے آنے کی نسبت کی گئی ہو۔ ماسوا اس کے یہودیوں کے دس فرقے اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور مسیح کی تعلیم جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں ہرگز کامل نہیں ہے اور انسانی درخت کی تمام شاخوں یعنی قوتوں کی اس سے پرورش غیر ممکن ہے۔ کیا انسانی تحمیل اسی پر ختم ہوسکتی ہے کہ ہم ہمیشہ محل بے محل پر عفو اور درگذر کی عادت ڈالیں اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دیا کریں؟ کیا ہر ایک جگہ اور ہر ایک محل میں ایسا کرنا مناسب ہے؟ کیا کبھی خدا تعالی کا یہ ارادہ تھا کہ اس کی تمام پیدا کردہ قو تیں جیسے 19 غضب اور شہوت وغیرہ جو مناسب استعمال کے لئے پیدا کی گئی ہیں سب کی سب نابود کر دی جائیں اور صرف قوت علم کو باقی رکھا جائے ۔ اگر خدا تعالیٰ کا ایسا ہی ارادہ تھا تو اس کے فعل پر یہ ایک بڑا اعتراض ہو گا کہ اس نے انسان میں انواع اقسام کی قوتیں پیدا کر کے پھر اپنے ارادہ کو اپنے قول کے ذریعہ سے یوں ظاہر کیا کہ ان تمام قوتوں کو ہم اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں بڑے بڑے انگریز محققوں کے اقرار سے ثابت کر چکے ہیں کہ یہودیوں کے دس گم شدہ فرقے افغان اور کشمیری ہیں جو مسلمان ہو گئے اور پھر توریت کے وعدہ کے موافق ان میں سے اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ ہوئے۔ منہ