تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 769

تریاق القلوب — Page 153

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۵۳ تریاق القلوب میں تقریر کے بالا رہنے کی اور زمانہ گمنامی کے بعد کروڑہا آدمیوں میں شہرت ہو جانے اور ہزار ہا خلص اور ہمدرد اور خادم پیدا ہو جانے کی اور دور دور سے تحائف اور مال پہنچنے کی اور ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے الزام خون کے مقدمہ سے آخر بری ہو جانے کی اور مولوی محمد حسین کے سب وشتم اور بد زبانی کے روکے جانے کی اور ساتھ اس کے اس مقدمہ سے بری ہونے کی اور اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸ء کے مطابق چارلڑ کے پیدا ہونے کی اور ضمیمہ رسالہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ کے مطابق چوتھا لڑکا اُس وقت پیدا ہونے کی کہ ابھی عبد الحق غزنوی شاگرد مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی زندہ تھا۔ اور تین ابتلا پیش آنے کی پیشگوئی جس کا ذکر براہین کے صفحہ ۲۴۱ اور صفحہ ۵۱۰ اور صفحہ ۵۱۱ اور صفحہ ۵۵۷ میں ہے۔ یہ پیشگوئیاں سب پوری ہوئیں لیکن آتھم کی یہ تین ابتلا جن کی آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک وہ ہے جو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے ناحق جھوٹا مقدمہ الزام اقدام خون کا میرے پر دائر کیا۔ اس ابتلا کی طرف براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں صریح اشارہ ہے۔ دوسرا وہ ابتلا ہے جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے ناحق میرے پر کفر کا فتویٰ لکھا اور پھر ذلت کی پیشگوئی کے اُلٹے معنے کئے اور میرے پر مقدمہ بنایا گیا۔ اس ابتلا کی طرف صفحہ ۵۱۰ اور صفحہ ۵۱۱ براہین میں اشارہ ہے ۔ اور تیسرا ابتلا لیکھرام کے مقدمہ میں ہندوؤں کا جوش اور ناحق میرے گھر کی تلاشی کرانا ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں بطور اشارہ ہے غرض براہین احمدیہ میں تین سخت ابتلا کا بطور پیشگوئی ذکر تھا۔ سو وہ تینوں ابتلا پورے ہو گئے۔ اور شائد ان کی کوئی اور شاخ ابھی باقی ہو۔ • آریوں کا میرے پر بدظن ہونا تعجب کی جگہ ہے کیونکہ سب سے پہلے تو آریوں کو ہی میرے نشانوں کا تجربہ ہوا تھا۔ قادیاں کے بعض آریوں کو میں نے پیش از وقت پنڈت دیانند سورستی کی موت کی خبر دی کہ چھ ماہ کے اندر فوت ہو جائے گا۔ اور خود ان آریوں کے بعض بلاؤں کی پیش از وقت خبر دی اور پھر بلا سے رہائی پانے کی پیش از وقت خبر دی۔ ان تمام الہامات کی تفصیل براہین احمدیہ میں موجود ہے اور جن کی نسبت پیشگوئی کی گئی تھی وہ بھی قادیان میں زندہ موجود ہیں۔ اُن میں سے ایک کا نام شیر میت ہے وہ ذات کے کھتری اور بازار کے چودھری ہیں۔ شرمیت کو میں نے خدا سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ ان کے مقدمہ کی فوجداری مثل چیف کورٹ سے واپس آئے گی اور ماتحت عدالت سے نصف قید بشمبر داس اُس کے بھائی کی میری دُعا کی وجہ سے معاف کر دی جائے گی مگر بری نہیں ہوگا۔ اور میں نے اُس کو یہ بھی کہا تھا کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا ہے کہ میں نے نوشتہ قضا و قدر کی نصف قید کو اپنی قلم سے کاٹ دیا ہے مگر بری نہیں کیا۔ لالہ شرمیت ایک سخت متعصب آریہ دشمن اسلام ہے۔ میری تصدیق کے لئے اس قدر کافی ہے کہ لالہ شرمیت کو اولاد کی قسم دے کر پوچھا جائے کہ کیا یہ میرے بیانات صحیح ہیں یا غلط؟ من حاشیه در حاشیه منه منه