توضیح مرام — Page 57
روحانی خزائن جلد۳ ۵۷ مان لیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک الفاظ سے پائے جاتے ہیں جن کے مطابق پہلے حضرت مسیح یوحنا نبی کے بارے میں بیان فرما چکے ہیں تو ان تمام پر تکلف مشکلات سے مخلصی پا جائیں گے نہ حضرت مسیح کی روح کو بہشت سے نکالنے کی حاجت پڑے گی اور نہ اس مقدس نبی کی نبوت کا ضلع تجویز کرنا پڑے گا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجو ملیح کے مرتکب ہوں گے اور نہ احکام قرآنی کے منسوخ ہونے کا اقرار کیا جائے گا۔ شاید آخری عذر ہمارے بھائیوں کا یہ ہوگا کہ بعض الفاظ جو صحیح حدیثوں میں حضرت مسیح کی علامات میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تطبیق کیونکر کریں۔ مثلاً لکھا ہے کہ مسیح جب آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور جزیہ کو اٹھا دے گا اور خنزیروں کو قتل کر دے گا اور اس وقت آئے گا کہ (۱۳) جب یہودیت اور عیسائیت کی بدخصلتیں مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہوں گی ۔ میں کہتا ہوں کہ صلیب کے توڑنے سے مراد کوئی ظاہری جنگ نہیں بلکہ روحانی طور پر صلیبی مذہب کا توڑ دینا اور اُس کا بطلان ثابت کر کے دکھا دینا مراد ہے جزیہ اٹھا دینے کی مراد خود ظاہر ہے جس سے یہ اشارہ ہے کہ ان دنوں میں دل خود بخود سچائی اور حق کی طرف کھینچے جائیں گے کسی لڑائی کی حاجت نہیں ہوگی خود بخود ایسی ہوا چلے گی کہ جوق در جوق اور فوج در فوج لوگ دین اسلام میں داخل ہوتے جائیں گے پھر جب دین اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ کھل جائے گا اور ایک عالم کا عالم اس دین کو قبول کر لے گا تو پھر جزیہ کس سے لیا جائے گا مگر یہ سب کچھ ایک دفعہ واقع نہیں ہوگا۔ ہاں ابھی سے اس کی بنا ڈالی جائے گی اور خنزیروں سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں خنزیروں کی عادتیں ہیں وہ اس روز حجت اور دلیل سے مغلوب کئے جائیں گے اور دلائل بینہ کی تلوار انھیں قتل کرے گی نہ یہ کہ ایک پاک نبی جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا۔ اے میری پیاری قوم ! یہ سب استعارے ہیں جن کو خدائے تعالی کی طرف سے فہم دیا (۱۴) گیا ہے وہ نہ صرف آسانی سے بلکہ ایک قسم کے ذوق سے اُن کو سمجھ جائیں گے۔ ایسے