توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 748

توضیح مرام — Page 53

روحانی خزائن جلد۳ ۵۳ توضیح مرا تو انفصال پا گیا اور دوبارہ اُترنے کی حقیقت اور کیفیت معلوم ہو گئی چنانچہ تمام عیسائیوں کا متفق علیہ عقیدہ جو انجیل کے رو سے ہونا چاہیے یہی ہے کہ یوحنا جس کے آسمان سے اُترنے کا انتظار تھا وہ حضرت مسیح کے وقت میں آسمان سے اس طرح پر اتر آیا کہ زکریا کے گھر میں اُسی طبع اور خاصیت کا بیٹا ہوا جس کا نام یحییٰ تھا۔ البتہ یہودی اُس کے اُترنے کے اب تک منتظر ہیں اُن کا بیان ہے کہ وہ سچ سچ آسمان سے اترے گا۔ اول بیت المقدس کے مناروں پر اس کا نزول ہوگا پھر وہاں سے یہودی لوگ اکٹھے ہو کر اس کو کسی نردبان وغیرہ کے ذریعہ سے نیچے اتار لیں گے اور جب یہودیوں کے سامنے وہ تاویل پیش کی جائے جو حضرت مسیح علیہ السلام نے یوحنا کے اترنے کے بارہ میں کی ہے تو وہ فی الفور غصہ (۵) سے بھر کر حضرت مسیح اور ایسے ہی حضرت بیٹی کے حق میں نا گفتنی با تیں سناتے ہیں اور اس نبی کے فرمودہ کو ایک ملحدانہ خیال تصور کرتے ہیں بہر حال آسمان سے اترنے کا لفظ جو تاویل رکھتا ہے مسیح کے بیان سے اس کی حقیقت ظاہر ہوئی اور انہی کے بیان سے یوحنا کے آسمان سے اُترنے کا جھگڑا طے ہوا اور یہ بات کھل گئی کہ آخر اترے تو کس طرح اترے مگر مسیح کے اترنے کے بارہ میں اب تک بڑے جوش سے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ عمدہ اور شاہانہ پوشاک قیمتی پارچات کی پہنے ہوئے فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اتریں گے مگر ان دو قوموں کا اس پر اتفاق نہیں کہ کہاں اتریں گے ۔ آیا مکہ معظمہ میں یا لنڈن کے کسی (1) گر جا میں یا ماسکو کے شاہی کلیسیا میں ۔ اگر عیسائیوں کو پرانے خیالات کی تقلید ر ہنرن نہ ہو تو وہ مسلمانوں کی نسبت بہت جلد سمجھ سکتے ہیں کہ مسیح کا اثر نا اُسی تشریح کے موافق چاہیے جو خود حضرت مسیح کے بیان سے صاف لفظوں میں معلوم ہو چکی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ حاشیه: یہ پار چات از قسم پشمینہ یا ابریشم ہوں گے؟ جیسے چوڑیا ۔ گلبدن - اطلس کمخواب ۔ زربفت زری۔ لاہی یا معمولی سوتی کپڑے جیسے نین سوکھ۔ تن زیب ۔ اینگ۔ چکن گلشن ململ ۔ جالی ۔ خاصہ ڈور یا چارخانہ اور کس نے آسمان میں بنے اور کس نے سیئے ہونگے ۔ ابتک کسی نے مسلمانوں یا عیسائیوں میں سے اس کا کچھ پتہ نہیں دیا۔ منہ