توضیح مرام — Page 86
روحانی خزائن جلد۳ ΛΥ کیا گیا ہے۔ دنیا میں جس قدرتم تغیرات و انقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ مُكَمَن قُوَّة سے حيّز فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر (۲۸) تا خیرات سماویہ کام کر رہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے مثلاً جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیر سے تعلق رکھتا ہے اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں انہیں خدمات کے موافق جو اس کے نیر سے لئے جاتے ہیں سو وہ فرشتہ اگر چہ ہر یک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الہی سے مشرف کیا گیا ہو نزول کی اصل کیفیت جو صرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہیے )۔ لیکن اُس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ نہایت بڑا دائرہ اس کی روحانی تا خیرات کا وہ دائرہ ہے جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی سے متعلق ہے۔ اسی وجہ سے جو معارف و حقائق و کمالات حکمت و بلاغت قرآن شریف میں اکمل اور اتم طور پر پائے جاتے ہیں یہ عظیم الشان مرتبہ اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور یہ بھی یا درکھنا چاہیے ( جیسا کہ پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں ) کہ ہر ایک فرشتہ کی تاثیر انسان کے نفس پر دو قسم کی ہوتی ہے۔ اوّل وہ تاثیر جو رحم میں ہونے کی حالت میں باذنہ تعالی مختلف طور کے تخم پر مختلف طور کا اثر ڈالتی ہے پھر دوسری وہ تاثیر جو بعد طیاری وجود کے اس وجود کی مخفی استعدادوں کو اپنے کمالات ممکنہ تک پہنچانے کے لئے کام کرتی ہے۔ اس دوسری تا ثیر کو جب وہ نبی یا کامل ولی کے متعلق ہو وحی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یوں ہوتا ہے کہ جب ایک مستعد نفس اپنے نور ایمان اور نور محبت کے کمال سے مبدء فیوض کے ساتھ دوستانہ تعلق پکڑ لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی زندگی بخش محبت اُس کی محبت پر پر توہ انداز ہو جاتی ہے تو اس حد اور اس وقت تک جو کچھ انسان کو