توضیح مرام — Page 85
روحانی خزائن جلد۳ ۸۵ وہ زندگی کا پانی اُس پر بند مت کرو اور اپنی بے جا خواہشوں کے تیر وتبر سے اس کے پیر مت کاٹو اگر تم ایسا کرو گے اور وہ ناقہ جو خدائے تعالیٰ کی سواری کے لئے تم کو دی گئی ہے مجروح ہو کر مر جائے گی تو تم بالکل سکتے اور خشک لکڑی کی طرح متصور ہو کر کاٹ دیئے جاؤ گے اور پھر آگ میں ڈالے جاؤ گے اور تمہارے مرنے کے بعد خدائے تعالی تمہارے پس ماندوں پر ہرگز رحم نہیں کرے گا بلکہ تمہاری معصیت اور بدکاری کا وبال ان کے بھی آگے آئے گا اور نہ صرف تم اپنی شامت اعمال سے مرو گے بلکہ اپنے عیال و اطفال کو بھی اسی تباہی میں ڈالو گے۔ ان آیات بینات سے صاف صاف ثابت ہو گیا کہ خداوند کریم نے انسان کو سب مخلوقات سے بہتر اور افضل بنایا ہے اور ملائک اور کواکب اور عناصر وغیرہ جو کچھ انسان میں اور خدائے تعالیٰ میں بطور وسائط کے دخیل ہو کر کام کر رہے ہیں وہ اُن کا درمیانی واسطہ ہونا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا اور وہ اپنے درمیانی ہونے کی وجہ سے انسان کو کوئی عزت نہیں (۶۷) بخشتے بلکہ خود ان کو عزت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایسی شریف مخلوق کی خدمت میں لگائے گئے ہیں سو در حقیقت وہ تمام خادم ہیں نہ مخدوم اور اس بارہ میں حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اللہ نے کیا اچھا کہا ہے۔ ابر و باد و مه و خورشید و فلک در کاراند تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخوری این همه از بهر تو سرگشته و فرمانبردار شرط انصاف نباشد که تو فرمان نه بری اور پھر ہم بقیہ تقریر کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ ملائک اللہ ( جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں ) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے نہ ایک ہی قسم کا کام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر ایک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کا موں کے انجام دینے کے لئے مقرر