توضیح مرام — Page 84
روحانی خزائن جلد ۳ ۸۴ لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا وہ اس مطلب کے پانے سے نامراد ر ہے گا ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلاشبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو ۔ کیوں کہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی ۔ پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ ایک مثال کے طور پر خمود کی قوم کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ انہوں نے بباعث اپنی جبلی سرکشی کے اپنے وقت کے نبی کو جھٹلایا اور اس تکذیب کے لئے ایک بڑا بد بخت ان میں سے پیش قدم ہوا۔ اس وقت کے رسول نے انہیں نصیحت کے طور پر ۲۵ کہا کہ ناقتہ اللہ یعنی خدائے تعالیٰ کی اُٹھنی اور اُس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو مگر انہوں نے نہ مانا اور اُٹھنی کے پاؤں کاٹے۔ سو اس جرم کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کی مارڈالی اور انہیں خاک سے ملا دیا اور خدائے تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بے کس عیال کا کیا حال ہوگا۔ یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقة اللہ سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس بھی در حقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تا وہ ناقۃ اللہ کا کام دیوے۔ اس کے فنافی اللہ ہونے کی حالت میں خدائے تعالی اپنی پاک تجلی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی اٹھنی پر سوار ہوتا ہے۔ سونفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں تہدید اور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناقة اللہ کا سفیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یا دالہی اور معارف الہی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موقوف ہے اُس پر بند کر رہے ہو اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کی (۲۲) فکر میں ہوتا وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے سو اگر تم اپنی خیر مانگتے ہو تو