توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 748

توضیح مرام — Page 76

روحانی خزائن جلد۳ ۷۶ اس کو اٹھالیا کیونکہ انسان میں یہ دو خو بیاں تھیں ایک یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا۔ دوسری یہ خوبی کہ وہ خدائے تعالیٰ کی محبت میں اس درجہ تک پہنچ سکتا تھا جو غیر اللہ کو بکلی فراموش کر دے پھر ایک اور جگہ فرمایا ۔ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي خَالِقُ بَشَرًا مِنْ طِينٍ - فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (٢) فَسَجَدَ الْمَلَيْكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِیس ہے یعنی یاد کر وہ وقت کہ جب تیرے خدا نے (جس کا تو مظہر اتم ہے ) فرشتوں کو کہا کہ میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں سو جب میں اس کو کمال اعتدال پر پیدا کرلوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھونک دوں تو تم اُس کے لئے سجدہ میں گر و یعنی کمال انکسار سے اُس کی خدمت میں مشغول ہو جاؤ اور ایسی خدمت گزاری میں جھک جاؤ کہ گویا تم اسے سجدہ کر رہے ہو پس سارے کے سارے فرشتے انسان مکمل کے آگے سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان جو اس سعادت سے محروم رہ گیا۔ جاننا چاہیے کہ یہ سجدہ کا حکم اُس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیا گیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالیٰ کی روح اس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کر و یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اُس پر اتر و اور اُس پر صلوۃ بھیجو سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ (۵۰) ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی روح اُس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقا باللہ کا درجہ حاصل کرتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اُس پر شروع ہو جاتا ہے اگر چہ سلوک کی ابتدائی حالات میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ ص ۷۲ تا ۷۵ ۔