توضیح مرام — Page 73
روحانی خزائن جلد۳ ۷۳ توضیح مرام ویدوں نے ان ملائک کے بارے میں کہاں انکار کیا ہے بلکہ انہوں نے تو ان وسائط کے ماننے اور قابل قدر جاننے میں بہت ہی غلو کیا ہے یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کے درجہ سے ان (۴۳) کا درجہ برابر ٹھہرا دیا ہے ایک رگوید پر ہی نظر ڈال کر دیکھو کہ کس قدر اس میں اجرام سماویہ اور عناصر کی پرستش موجود ہے اور کیسی ان کی اُستت اور مہما اور مدح اور ثنا میں ورقوں کے ورق سیاہ کر دیئے ہیں اور کس عاجزی اور گڑ گڑانے سے ان سے دعائیں مانگی گئی ہیں جو قبول بھی نہیں ہوئیں مگر شریعت فرقانی نے تو ایسا نہیں کیا بلکہ اُن نفوس نورانیہ کو جو اجرام سماویہ سے یا عناصر یا د خانات سے ایسا تعلق رکھتے ہیں جیسے جان کا جسم سے تعلق ہوتا ہے صرف ملائک یا جنات کے نام سے موسوم کیا ہے اور ان نورانی فرشتوں کو جونو رانی ستاروں اور سیاروں پر اپنا مقام رکھتے ہیں اپنی ذات پاک میں اور اپنے رسولوں میں ایسے طور کا واسطہ نہیں ٹھہرایا جس کے رو سے ان فرشتوں کو با اقتدار یا با اختیار مان لیا جاوے بلکہ ان کو اپنی نسبت ایسا ظاہر فرمایا ہے کہ جیسے ایک بے جان چیز ایک زندہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس سے وہ زندہ جس طور سے کام لینا چاہتا ہے لیتا ہے اسی بناء پر بعض مقامات قرآن شریف میں اجسام کے ہر یک (۴۴) ذرہ پر بھی ملائک کا نام اطلاق کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ سب ذرات اپنے رب کریم کی آواز سنتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا گیا ہو مثلاً جو کچھ تغیرات بدن انسان میں مرض کی طرف یا صحت کی طرف ہوتے ہیں ان تمام مواد کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق آگے پیچھے قدم رکھتا ہے۔ اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ اس قسم کے وسائط کے ماننے میں جو قرآن شریف میں قرار دیئے گئے ہیں کونسا شرک لازم آتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی شان قدرت میں کونسا فرق آجاتا ہے بلکہ یہ تو اسرار معرفت و دقائق حکمت کی وہ باتیں ہیں جو قانون قدرت کے صفحہ صفحہ میں لکھی ہوئی نظر آتی ہیں اور بغیر اس انتظام کے ماننے کے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ ثابت ہی نہیں ہو سکتی اور نہ اس کی خدائی چل سکتی ہے بھلا جب تک ذرہ ذرہ اُس کا