توضیح مرام — Page 74
روحانی خزائن جلد۳ ۷۴ توضیح مرام فرشتہ بن کر اس کی اطاعت میں نہ لگا ہوا ہو تب تک یہ سارا کارخانہ اُس کی مرضی کے موافق کیوں کر چل سکتا ہے؟ کوئی ہمیں سمجھائے تو سہی اور نیز اگر ملائک سماویہ کے نظام روحانی سے خدا تعالیٰ کی ۴۵ قادرانہ شان پر کچھ دھبہ لگ سکتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ملائک کے نظام جسمانی کے ماننے سے کہ جو نظام روحانی کا بعینہ ہم رنگ و ہم شکل ہے خدائے تعالیٰ کی قدرت کا ملہ پر کوئی دھبہ نہیں لگ سکتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آریہ وغیرہ ہمارے مخالفوں نے فرط نابینائی سے ایسے ایسے بے جا اعتراضات کر دیے ہیں جن کی اصل بناء بہت سے مشرکانہ حواشی کے ساتھ ان کے گھر میں بھی موجود ہے اور ناحق بوجہ اپنی بے بصیرتی کے ایک عمدہ صداقت کو بطالت کی شکل میں سمجھ لیا ہے۔ چشم بد اندیش که برکنده باد عیب نماید هنرش در نظر یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ اسلامی شریعت کے رو سے خواص ملائک کا درجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں ان کا وسائط قرار پانا اُن کی افضلیت پر دلائل * نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یعنی وہ خدا جس نے سورج اور چاند کو (۳۲) تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے مثلاً دیکھنا چاہیے کہ ایک چٹھی رساں ایک شاہ وقت کی طرف سے اس کے کسی ملک کے صوبہ یا گورنر کی خدمت میں چٹھیاں پہنچا دیتا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ چٹھی رساں جو اس بادشاہ اور گورنر جنرل میں واسطہ ہے گورنر جنرل سے افضل ہے سو خوب سمجھ لو یہی مثال ان وسائط کی ہے جو نظام جسمانی اور روحانی میں قادر مطلق کے ارادوں کو زمین پر پہنچاتے اور اُن کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ اللہ جل شانہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں بتفریح ظاہر فرماتا ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ تمام چیزیں اپنے وجود میں انسان کی طفیلی ہیں یعنی محض انسان کے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' دلالت “ہونا چاہیے۔(ناشر) ابراهيم : ۳۴: