توضیح مرام — Page 71
روحانی خزائن جلد ۳ اے توضیح مرام اور جمادات اور حیوانات پر آسمانی کواکب کا دن رات اثر پڑ رہا ہے اور جاہل سے جاہل ایک دہقان بھی اس قدر تو ضرور یقین رکھتا ہوگا کہ چاند کی روشنی پھلوں کے موٹا کرنے کے لئے اور سورج کی دھوپ ان کو پکانے اور شیریں کرنے کے لئے اور بعض ہوائیں بکثرت پھل آنے ﴿۳۹﴾ کے لئے بلا شبہ مؤثر ہیں اب جبکہ ظاہری سلسلہ کا ئنات کا ان چیزوں کی تاثیرات مختلہ سے تربیت پا رہا ہے تو اس میں کیا شک ہو سکتا ہے کہ باطنی سلسلہ پر بھی باز نہ تعالیٰ وہ نفوس نورانیہ اثر کر رہی ہیں جن کا اجرام نورانیہ سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسے جان کو جسم سے ہوتا ہے۔ اب اس کے بعد یہ بھی جاننا چاہیے کہ اگر چہ بظاہر یہ بات نہایت دور از ادب معلوم ہوتی ہے کہ خدائے تعالیٰ اور اُس کے مقدس نبیوں میں افاضہ انوار وحی کے لئے کوئی اور واسطہ تجویز کیا جائے لیکن ذرا غور کرنے سے بخوبی سمجھ آجائے گا کہ اس میں کوئی سوء ادب کی بات نہیں بلکہ سرا سر خدائے تعالیٰ کے اس عام قانون قدرت کے مطابق ہے جو دنیا کی ہر یک چیز کے متعلق کھلے کھلے طور پر مشہود و محسوس ہو رہا ہے کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اپنے ظاہری جسم اور ظاہری قومی کے لحاظ سے انہیں وسائط کے محتاج ہیں اور نبی کی ۴۰ آنکھ بھی گو کیسی ہی نورانی اور بابرکت آنکھ ہے مگر پھر بھی عوام کی آنکھوں کی طرح آفتاب یا اس کے کسی دوسرے قائم مقام کے بغیر کچھ دیکھ نہیں سکتی اور بغیر توسط ہوا کے کچھ سن نہیں سکتے لہذا یہ بات بھی ضروری طور پر ماننی پڑتی ہے کہ نبی کی روحانیت پر بھی ان سیارات کے نفوس نورانیہ کا ضرور اثر پڑتا ہو گا بلکہ سب سے زیادہ اثر پڑتا ہوگا کیوں کہ جس قد را استعداد صافی اور کامل ہوتی ہے اُسی قدر اثر بھی صافی اور کامل طور پر پڑتا ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ یہ سیارات اور کواکب اپنے اپنے قالبوں کے متعلق ایک ایک روح رکھتے ہیں جن کو نفوس کو اکب سے بھی نامزد کر سکتے ہیں اور جیسے کواکب اور سیاروں میں باعتبار ان کے قالبوں کے طرح طرح کے خواص پائے جاتے ہیں جو زمین کی ہر یک چیز پر حسب استعداد اثر ڈال رہے ہیں ایسا ہی ان کے نفوس نورانیہ میں بھی انواع اقسام کے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے مختلفہ “ہونا چاہیے۔ (ناشر)