توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 748

توضیح مرام — Page 70

روحانی خزائن جلد۳ اپنے طریق معاشرت میں داخل کر لیں۔ اب پھر میں ملائک کے ذکر کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے جس طرز سے ۳۷ ملائک کا حال بیان کیا ہے وہ نہایت سیدھی اور قریب قیاس راہ ہے اور بجز اس کے ماننے کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا ۔ قرآن شریف پر بدیدہ تعمق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بلکہ جمیع کا ئنات الارض کی تربیت ظاہری و باطنی کے لئے بعض وسائط کا ہونا ضروری ہے اور بعض بعض اشارات قرآنیہ سے نہایت صفائی سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض وہ نفوس طیبہ جو ملائک سے موسوم ہیں اُن کے تعلقات طبقات سماویہ سے الگ الگ ہیں ۔ بعض اپنی تاثیرات خاصہ سے ہوا کے چلانے والے اور بعض مینہ کے برسانے والے اور بعض بعض اور تا ثیرات کو زمین پر اتارنے والے ہیں پس اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہیے کہ جیسے زمین کا ہر یک جاندار اپنے اندر جان رکھتا ہے بلکہ ان نفس طبیبہ کو بوجہ مناسبت اپنی نورانیت اور روشنی کے جو روحانی طور پر انہیں حاصل ہے روشن ۳۸ ستاروں کے ساتھ ایک مجہول الگ نہ تعلق ہے اور ایسا شدید تعلق ہے کہ اگر ان نفوس طیبہ کا ان ستاروں سے الگ ہونا فرض کر لیا جائے تو پھر اُن کے تمام قومی میں فرق پڑ جائے گا انہیں نفوس کے پوشیدہ ہاتھ کے زور سے تمام ستارے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں اور جیسے خدائے تعالیٰ تمام عالم کے لئے بطور جان کے ہے ایسا ہی ( مگر اس جگہ تشبیه کامل مراد نہیں) وہ نفوس نورانیہ کو اکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں اور ان کے جدا ہو جانے سے ان کی حالت وجود یہ میں بکلی فساد راہ پا جانا لازمی و ضروری امر ہے اور آج تک کسی نے اس امر میں اختلاف نہیں کیا کہ جس قدر آسمانوں میں سیارات اور کو اکب پائے جاتے ہیں وہ کا ئنات الارض کی تکمیل و تربیت کے لئے ہمیشہ کام میں مشغول ہیں غرض یہ نہایت بچی ہوئی اور ثبوت کے چرخ پر چڑھی ہوئی صداقت ہے کہ تمام نباتات