توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 748

توضیح مرام — Page 69

روحانی خزائن جلد۳ ۶۹ استت اور مہما کرتا ہے اور ان سے مراد میں مانگنے کی تعلیم دیتا ہے اور ممکن ہے کہ ان کتابوں میں تحریف اور الحاق کے طور پر یہ پر کفر تعلیمیں زائد کی گئی ہوں جیسی وید میں ایسی اور بھی بہت (۳۵) سی بے جا تعلیمیں پائی جاتی ہیں مثلاً یہ تعلیم کہ اس جہان کا کوئی خالق نہیں ہے اور ہر ایک چیز اپنے اصل مادہ اور اصل حیات کے رو سے قدیم اور واجب الوجود اور اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہے یا یہ تعلیم کہ کسی وجود کو متناسخ کے منحوس چکر سے کبھی اور کسی زمانہ میں مخلصی حاصل ہو ہی نہیں سکتی یا ی تعلیم کہ ایک شوہر دار عورت اولا دنرینہ نہ ہونے کی حالت میں کسی غیر آدمی سے ہم بستر ہو سکتی ہے تا اس سے اولاد حاصل کرے یا یہ تعلیم کہ بڑے بڑے مقدس لوگ بھی گودید کے ہی رشی کیوں نہ ہوں جن پر چاروں وید اُترے ہوں ہمیشہ کی نجات کبھی نہیں پا سکتے اور نہ لازمی طور پر ہمیشہ بزرگوار اور عزت کے ساتھ یاد کرنے کے لائق ٹھہر سکتے ہیں بلکہ ممکن ہے کہ تناسخ کے چکر میں آکر اور اور جانداروں کی طرح کچھ کا کچھ بن جائیں بلکہ شاید بن گئے ہوں اور ان کے زعم میں خواہ کوئی انسان اوتاروں سے بھی زیادہ مرتبہ رکھتا ہو یا وید کے رشیوں سے بھی بڑھ کر ہو اس کے لئے ممکن بلکہ قانون قدرت کے رو سے ضروری پڑا ہوا ہے کہ کسی وقت (۳۶) وہ کیڑا مکوڑہ یا نہایت مکروہ اور قابل نفرت جانور بن کر کسی خسیس مخلوق کی نوع میں جنم لیوے۔ یہ سب باطل تعلیمیں ہیں جو انسانوں کے رذیل خیالات نے ایجاد کی ہیں اور جن لوگوں نے یہ تمام بے شرمی کے کام اور دور از عزت انتقالات اپنے بنی نوع بلکہ اپنے بزرگوں اور پیشواؤں کے لئے جائز رکھے ہیں انہوں نے یہ بھی جائز رکھ لیا کہ کواکب کی روحوں سے مرادیں مانگی جائیں ان کی ایسی پرستش کی جائے جیسی خدائے تعالیٰ کی کرنی چاہیے لیکن قرآن شریف جو ہر یک طور سے تو حید اور تہذیب کی راہ کھولتا ہے اس نے ہرگز روا نہیں رکھا کہ اس کے ساتھ کسی مخلوق کی پرستش ہو یا اس کی ربوبیت کی قدرت صرف ناقص اور نا کارہ طور پر تسلیم کریں اور اس کو ہر یک چیز کا مبدء اور سر چشمہ نہ ٹھہرائیں یا کوئی اور بے شرمی کا کام