توضیح مرام — Page 62
روحانی خزائن جلد۳ ۶۲ توضیح مرا کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الہی محبت کی (۲۲) چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کے پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القدس ہے سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جب کہ خدائے تعالیٰ اپنے ارادہ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو با ارادہ الہی اب محبت سے بھر گئی ہے ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدائے تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے استعارہ کے طور پر اپنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو نا پاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرہ امکان کو جو هالكة الذات باطلة الحقیقت ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے۔ (۲۳) لیکن اگر اس جگہ یہ استفسار ہو کہ اگر یہ درجہ اس عاجز اور مسیح کے لئے مسلّم ہے تو پھر جناب سیدنا ومولانا سید الکل وافضل الرسل حضرت خاتم النبيين محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سا درجہ باقی ہے۔ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اُسی ذات کامل الصفات پر ختم ہو گیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے۔ شان احمد را که داند جز خداوند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میاں افتاد میم زاں نمط شد محودلبر کز کمال اتحاد پیکر او شد سراسر صورت رب رحیم ہوئے محبوب حقیقی میدہد زاں روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم گرچه منسوبم کند کسی سوئے الحاد و ضلال چوں دل احمد نے بینم دگر عرش عظیم