توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 748

توضیح مرام — Page 61

روحانی خزائن جلد۳ บ قلوب قوم مُوجع۔ فانظر ايها الناقد البصير أ يُفهم من هذا سد باب النبوة على وجه کلی بـل الـحـديـث يدل على ان النبوة التامة الحاملة لوحى ا الشريعة قد انقطعت ولكن النبوة التي ليس فيها الا المبشرات فهى باقية الى يوم القيامة لا انقطاع لها ابدا ۔ و قد علمت و قرات فى كتب الحديث ان الرؤيا الصالحة جزء من ستة واربعين جزء من النبوّة اى من النبوة التامة فلما كان للرويا نصيبا من هذه المرتبة فكيف الكلام الذي يوحى من الله تعالى الى قلوب المحدثين فاعلم ایدک الله ان حاصل كلامنا ان ابواب النبوة الجزئية مفتوحة ابدا و ليس في هذا النوع الا المبشرات او المنذرات من الامور المغيبة او اللطائف القرآنية | فقد والعلوم اللدنية۔ و اما النبوة التي تامة كاملة جامعة لجميع كمالات الوحى فقـ آمنا بانقطاعها من يوم نزل فيه - مَا كَانَ مُحَمَّدُ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ اگر یہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت (1) روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قومی میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دل سوزی اور غم خواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی محبت قومی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اول بندہ کے دل میں بارادہ الہی پیدا ہو کر رب قدیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر اُن دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ الاحزاب : ۴۱