توضیح مرام — Page 60
روحانی خزائن جلد۳ توضیح مرا زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔ ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تا ہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدائے تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیا کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور انبیا کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔ اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے اس (19) پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر یک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔ مگر اس بات کو بحضور دل یا درکھنا چاہیے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا نبوت تامہ نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کے اقتدا سے ملتی ہے جو مجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فاعـلـم ارشدك الله تعالى ان النبي محدث والمحدث نبى باعتبار حصول نوع من انواع النبوت و قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يبق من النبوت الا المبشرات اى لم يبق من انواع النبوت الا نوع واحد وهى المبشرات من اقسام الرؤيا الصادقة والمكاشفات | (۲۰) الصحيحة و الوحي الذي ينزل على خواص الاولياء و النور الذي يتجلى على سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ہے “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)