تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 279

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷۹ تحفہ قیصریہ کے دلائل کو سنتا رہا اور ان پر غور کرتا رہا۔ آخر جو موحد فرقہ تھا اور حضرت یسوع مسیح کو صرف خدا کا رسول اور نبی جانتا تھا وہ غالب آ گیا اور دوسرے فرقہ کو ایسی شکست آئی کہ اس مجلس میں قیصر روم نے ظاہر کر دیا کہ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ دلائل کے زور سے موحد فرقہ کی طرف کھینچا گیا۔ اور قبل اس کے جو اس مجلس سے اٹھے توحید کا مذہب اختیار کر لیا۔ اور اُن موحد عیسائیوں میں سے ہو گیا جن کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔ اور بیٹا اور خدا کہنے سے دستبردار ہو گیا اور پھر تیسرے قیصر تک ہر ایک وارث تخت روم موحد ہوتا رہا۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ایسے مذہبی جلسے پہلے عیسائی بادشاہوں کا دستور تھا اور ﴿۲۷﴾ بڑی بڑی تبدیلیاں ان سے ہوتی تھیں۔ ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح ایسا ند ہی جلسہ پایہ تخت میں انعقاد فرماویں کہ یہ روحانی طور پر ایک یادگار ہوگی مگر یہ جلسہ قیصر روم کی نسبت زیادہ توسیع کے ساتھ ہونا چاہیے کیوں کہ ہماری ملکہ معظمہ بھی اس قیصر کی نسبت زیادہ وسعت اقبال رکھتی ہیں۔ اور اس التماس کا ایک یہ بھی سبب ہے کہ جب سے کہ اس ملک کے لوگوں نے امریکہ کے جلسہ مذاہب سے اطلاع پائی ہے طبعا دلوں میں یہ جوش پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری ملکہ معظمہ بھی خاص لندن میں ایسا جلسہ منعقد فرما ئیں تا کہ اس تقریب سے اس ملک کی خیر خواہ رعایا اور ان کے رئیسوں اور عالموں کے گروہ خاص لندن پایہ تخت میں شرف لقاء حضور حاصل کر سکیں اور اس تقریب سے ملکہ معظمہ کو بھی اپنے برٹش انڈیا کی وفادار رعایا کے ہزار ہا چہروں پر یک دفعہ نظر پڑ سکے اور چند ہفتہ تک لندن کے کو چوں اور گلیوں میں ہندوستان کے معزز باشندے سیر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ہاں یہ ضروری ہوگا کہ اس جلسہ مذاہب میں ہر ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے دوسروں سے کچھ تعلق نہ رکھے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ جلسہ بھی ہماری ملکہ معظمہ کی طرف سے ہمیشہ کے لئے ایک روحانی یادگار ہوگا۔ اور انگلستان جس کے کانوں تک بڑی خیانتوں