تحفۂ قیصریہ — Page 278
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷۸ تحفہ قیصریہ ہوتے ہیں۔ اور آسمانی نشانوں کو اپنا حکم ٹھہراتے ہیں لیکن اے مخدومہ ملکہ معظمہ یسوع مسیح کی بریت کے بارے میں یہ تینوں ذریعے شہادت دیتے ہیں ۔ منقول کے ذریعہ سے اس طرح کہ تمام نوشتوں سے پایا جاتا ہے کہ یسوع دل کا غریب اور حلیم اور خدا سے پیار کرنے والا اور ہر دم خدا کے ساتھ تھا پھر کیوں کر تجویز کیا جائے کہ کسی وقت نعوذ باللہ اس کا (۲۶) دل خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا کا دشمن ہو گیا تھا جیسا کہ لعنت کا مفہوم دلالت کرتا ہے اور عقل کے ذریعہ سے اس طرح پر کہ عقل ہر گز باور نہیں کرتی کہ جو خدا کا نبی اور خدا کا وحید اور اس کی محبت سے بھرا ہوا ہو اور جس کی سرشت نور سے مخمر ہو اس میں نعوذ باللہ بے ایمانی اور نافرمانی کی تاریکی آجائے یعنی وہی تاریکی جس کو دوسرے لفظوں میں لعنت کہتے ہیں اور آسمانی نشانوں کے رو سے اس طرح پر کہ خدا اب آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے خبر دے رہا ہے کہ مسیح کی نسبت جو قرآن نے بیان کیا کہ وہ لعنت سے محفوظ رہا اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کا دل لعنتی نہیں ہوا یہی سچ ہے۔ وہ نشان اس عاجز کے ذریعہ سے ظاہر ہورہے ہیں اور بہت سے نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور بارش کی طرح برستے ہیں۔ سواے ہماری عالم پناہ ملکہ خدا تجھے بے شمار فضلوں سے معمور کرے۔ اس مقدمہ کو اپنی قدیم منصفانہ عادت کے ساتھ فیصلہ کر۔ میں بادب ایک اور عرض کرنے کے لئے بھی جرات کرتا ہوں کہ تواریخ سے ثابت ہے کہ قیا صرہ روم میں سے جب تیسرا قیصر روم تخت نشین ہوا اور اس کا اقبال کمال کو پہنچ گیا۔ تو اسے اس بات کی طرف توجہ پیدا ہوئی کہ دو مشہور فرقہ عیسائیوں میں جو ایک موحد اور دوسرا حضرت مسیح کو خدا جانتا تھا با ہم بحث کر اوے چنانچہ وہ بحث قیصر روم کے حضور میں بڑی خوبی اور انتظام سے ہوئی اور بحث کے سننے کے لئے معزز ناظرین اور ارکان دولت کی صدہا کرسیاں بلحاظ رتبہ و مقام کے بچھائی گئیں اور دونوں فریق کے پادریوں کی چالیس دن تک بادشاہ کے حضور میں بحث ہوتی رہی اور قیصر روم بخوبی فریقین