تحفۂ قیصریہ — Page 277
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۷۷ تحفہ قیصریہ نام رکھنا جو لعنت کا مفہوم ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور بھی تو ہین ہو گی ؟ پس جس کو خدا کے تمام فرشتے مقرب مقرب کہہ رہے ہیں اور جو خدا کے نور سے نکلا ہے اگر اس کا نام خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن رکھا جائے تو اس کی کس قدر اہانت ہے ؟!! افسوس اس تو ہین کو یسوع کی نسبت اس زمانہ میں چالیس کروڑ انسان نے اختیار کر رکھا ہے۔ اے ملکہ معظمہ ایسوع مسیح سے تو یہ نیکی کر خدا تجھ سے بہت نیکی کرے گا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ اس کا رروائی کیلئے خدا تعالی آپ (۲۵) ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کے دل میں القا کرے۔ پیلاطوس نے جس کے زمانہ میں یسوع تھا نا انصافی سے یہودیوں کے رعب کے نیچے آکر ایک مجرم قیدی کو چھوڑ دیا اور یسوع جو بے گناہ تھا۔ اس کو نہ چھوڑا لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جو بلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کیلئے کوشش کر ۔ اس وقت ہم اپنی نہایت پاک نیت سے جو خدا کے خوف اور سچائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اس التماس کے لئے جرات کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی عزت کو اس داغ سے جو اس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمت سے پاک کر کے دکھلا ۔ بے شک شہنشاہوں کے حضور میں ان کی استمزاج سے پہلے بات کرنا اپنی جان سے بازی ہوتی ہے لیکن اس وقت ہم یسوع مسیح کی عزت کے لئے ہر ایک خطرہ کو قبول کرتے ہیں اور محض اس کی طرف سے رسالت لے کر بحیثیت ایک سفیر کے اپنے عادل بادشاہ کے حضور میں کھڑے ہو گئے ہیں ۔ اے ہماری ملکہ معظمہ ! تیرے پر بے شمار برکتیں نازل ہوں ۔ خدا تیرے وہ تمام فکر دور کرے جو تیرے دل میں ہیں۔ جس طرح ہو سکے اس سفارت کو قبول کر ۔ تمام مذہبی مقدمات میں یہی ایک قانون قدیم سے چلا آیا ہے کہ جب کسی بات میں دو فریق تنازعہ کرتے ہیں تو اول منقولات کے ذریعہ سے اپنے تنازعہ کو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور جب منقولات سے وہ فیصلہ نہیں ہوسکتا تو معقولات کی طرف توجہ کرتے ہیں اور عقلی دلائل سے تصفیہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب کوئی مقدمہ عقلی دلائل سے بھی طے ہونے میں نہیں آتا تو آسمانی فیصلہ کے خواہاں