تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 268

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۸ (17) میں اچھی حالتوں اور اچھے اخلاق کی طرف ایک انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور وحشیانہ جذبات ملکوتی حالات کی طرف انتقال کر رہے ہیں اور نئی ذریت نفاق کی جگہ اخلاص کو زیادہ پسند کرتی جاتی ہے اور لوگوں کی استعدادیں سچائی کے قبول کرنے کے لئے بہت نز دیک آتی جاتی ہیں۔ انسانوں کی عقل اور فہم اور سوچ میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے اور اکثر لوگ ایک سادہ اور بے لوث زندگی کے لئے طیار ہو رہے ہیں۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد سلطنت ایک ایسی روشنی کا پیش خیمہ ہے جو آسمان سے اتر کر دلوں کو روشن کرنے والی ہے۔ ہزاروں دل اس طرح پر راستی کے شوق میں اچھل رہے ہیں کہ گویا وہ ایک آسمانی مہمان کے لئے جو سچائی کا نور ہے پیشوائی کے طور پر قدم بڑھاتے ہیں ۔ انسانی قومی کے تمام پہلوؤں میں اچھے انقلاب کا رنگ دکھائی دیتا ہے اور دلوں کی حالت اس عمدہ زمین کی طرح ہو رہی ہے جو اپنا سبزہ نکالنے کے لئے پھول گئی ہو۔ ہماری ملکہ معظمہ اگر اس بات سے فخر کریں تو بجا ہے کہ روحانی ترقیات کے لئے خدا اسی زمین سے ابتدا کرنا چاہتا ہے جو برٹش انڈیا کی زمین ہے۔ اس ملک میں کچھ ایسے روحانی انقلاب کے آثار نظر آتے ہیں کہ گویا خدا بہتوں کو سفلی زندگی سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ اکثر لوگ بالطبع پاک زندگی کے حاصل کرنے کے لئے میل کرتے جاتے ہیں اور بہت سی روحیں عمدہ تعلیم اور عمدہ اخلاق کی تلاش میں ہیں اور خدا کا فضل امید ہیں اور خدا دے رہا ہے کہ وہ اپنی ان مرادوں کو پائیں گے۔ اگر چہ اکثر قو میں ابھی ایسی کمزور ہیں کہ سچائی کی گواہی صفائی کے ساتھ دے نہیں سکتیں بلکہ سچائی کو سمجھ نہیں سکتیں اور ان کی تحریر اور تقریر میں کم و بیش تعصب کی رنگ آمیزی پائی جاتی ہے مگر دیکھا جاتا ہے کہ انصاف پسند انسانوں میں حق شناسی کی قوت بڑھ گئی ہے۔ وہ راستی کی چمک کو بہت سے پردوں میں سے بھی دیکھ لیتے ہیں ۔ یہ ایک بڑی قابل قدر