تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 269

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۹ تحفہ قیصریہ بات ہے کہ اکثر لوگ عرفانی روشنی کی تلاش میں لگ گئے ہیں۔ ہاں تلاش کی دُھن میں 12 غلطیوں میں بھی پڑ رہے ہیں اور غیر معبود کو حقیقی معبود کی جگہ بھی دیتے ہیں مگر کچھ شک نہیں کہ ایک حرکت پیدا ہوگئی ہے اور باتوں کی حقیقت اور اصلیت اور جڑ تک پہنچنا اور سطحی خیالات تک رکے نہ رہنا قابل تعریف خلق سمجھا گیا ہے جس سے آئندہ کی امیدیں مضبوط ہو گئی ہیں۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ یہ بھی بادشاہ وقت کا ایک پر تو ہ ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ گورنمنٹ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی ایک روحانی سرگرمی اور حق کی تلاش کا اثر ساتھ لائی ہے اور بلا شبہ یہ اس ہمدردی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جو ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کے دل میں برٹش انڈیا کی رعیت کی نسبت مرکوز ہے۔ اور اگر چہ میں ان احسانوں کا بھی بدرجہ غایت قدر کرتا ہوں جو جسمانی طور پر جناب ملکہ معظمہ کی توجہات سے شامل حال مسلمانان ہند ہیں لیکن ایک بڑا حصہ عنایات حضرت قیصرہ ہند کا یہی ہے کہ ان کے ایام دولت میں ہندوستان کی بہت سی وحشیانہ حالتیں رو بہ اصلاح ہوگئی ہیں اور ہر ایک شخص نے روحانی ترقیات کا بڑا موقعہ پایا ہے۔ ہم صریح دیکھتے ہیں کہ گویا زمانہ ایک سچی اور پاک صلاحیت کے نزدیک آتا جاتا ہے اور دلوں کو حقیقت شناسی کی طرف توجہ پیدا ہوتی جاتی ہے۔ مذہبی امور میں بوجہ تبادل خیالات کے ہر ایک حق کی تلاش کرنے والے کو آگے قدم رکھنے کی جرات ہوگئی ہے اور وہ سچا اور اکیلا خدا جو بہتوں کی نظر سے پوشیدہ تھا اب اپنی تجلیات کے دکھلانے کے لئے صریح ارادہ کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بھی گزرتا ہے کہ اس سے پہلے اس ملک کی فارغ البالی اور دولتمندی اس کی روحانی ترقی کی بہت مانع تھی اور ہر ایک مال اور دولت رکھنے والا عیاشی اور آرام پسندی کی طرف اعتدال سے زیادہ جھک گیا تھا۔ اگر ہندوستان کی وہی صورت رہتی تو آج شاید