تحفۂ قیصریہ — Page 265
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۵ تحفہ قیصریہ انگریزی آزادی سے فائدہ اٹھاؤں اور نیز اسلامی جوش کے لوگوں کو اس جائز امر کی (۱۳) طرف توجہ دے کر نا جائز خیالات اور جوشوں سے ان کے جذبات کو روک دوں ۔ مسلمان لوگ ایک خونی مسیح کے منتظر تھے اور نیز ایک خونی مہدی کی بھی انتظار کرتے تھے۔ اور یہ عقیدے اس قدر خطر ناک ہیں کہ ایک مفتری کا ذب مہدی موعود کا دعوی کر کے ایک دنیا کو خون میں غرق کر سکتا ہے کیوں کہ مسلمانوں میں اب تک یہ خاصیت ہے کہ جیسا کہ وہ ایک جہاد کی رغبت دلانے والے فقیر کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ ایسی تا بعداری بادشاہ کی بھی نہیں کر سکتے ۔ پس خدا نے چاہا کہ یہ غلط خیالات دور ہوں اس لئے اس نے مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کا خطاب دے کر میرے پر ظاہر فرمایا که کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر غلط خیال ہے بلکہ خدا ارادہ فرماتا ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ سچ کو دنیا میں پھیلا دے۔ سو میرا اصول یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کو اپنی بادشاہیاں مبارک ہوں ہمیں ان کی سلطنت اور دولت سے کچھ غرض نہیں ہمارے لئے آسمانی بادشا ہی ہے ۔ ہاں نیک نیتی سے اور سچی خیر خواہی سے بادشاہوں کو بھی آسمانی پیغام پہنچانا ضروری ہے لیکن اس گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت نہ صرف اس قدر ہے بلکہ چونکہ ہم اس دولت کے سایہ عاطفت کے نیچے با من زندگی بسر کرتے ہیں اس لئے اس دولت کے لئے ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس کی دنیا اور آخرت کے لئے دعا بھی کریں۔ افسوس کہ جس وقت سے میں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ خبر سنائی ہے کہ کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح دنیا میں آنے والا نہیں ہے بلکہ ایک شخص صلح کاری کے ساتھ آنے والا تھا جو میں ہوں اس وقت سے یہ نادان مولوی مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور مجھ کو کافر اور دین سے خارج ٹھہراتے ہیں ۔ عجیب بات ہے