تحفۂ قیصریہ — Page 266
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۶ تحفہ قیصریہ ۱۳ کہ یہ لوگ بنی نوع کی خونریزی سے خوش ہوتے ہیں مگر یہ قرآنی تعلیم نہیں ہے اور نہ سب مسلمان اس خیال کے ہیں۔ یہ پادریوں کی بھی خیانت ہے کہ ناحق دائمی جہاد کے مسئلہ کو قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور اس طرح پر بعض نادانوں کو دھو کہ میں ڈال کر نفسانی جوشوں کی طرف ان کو توجہ دیتے ہیں ۔ اور میں نہ اپنے نفس سے اور نہ اپنے خیال سے بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں اس کے لئے دعا میں مشغول رہوں اور اس کے احسانات کا شکر کروں اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھوں اور جو کچھ مجھے فرمایا گیا ہے نیک نیتی سے اس تک پہنچاؤں ۔ لہذا اس موقعہ جو بلی پر جناب ملکہ معظمہ کے ان متواتر احسانات کو یاد کر کے جو ہماری جان اور مال اور آبرو کے شامل حال ہیں ہد یہ شکر گزاری پیش کرتا ہوں اور وہ ہدیہ دعائے سلامتی و اقبال ملکہ ممدوحہ ہے جو دل سے اور وجود کے ذرہ ذرہ سے نکلتی ہے۔ اے قیصرہ و ملکہ معظمہ ! ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الہی میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کے لئے حضرت احدیت میں سجدہ کرتی ہیں۔ اے اقبال مند قیصرہ ہند ! اس جو بلی کی تقریب پر ہم اپنے دل اور جان سے تجھے مبارکباد دیتے ہیں اور خدا سے چاہتے ہیں کہ خدا تجھے ان نیکیوں کی بہت بہت جزا دے جو تجھ سے اور تیری با برکت سلطنت سے اور تیرے امن پسند حکام سے ہمیں پہنچی ہیں ۔ ہم تیرے وجود کو اس ملک کے لئے خدا کا ایک بڑا فضل سمجھتے ہیں اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے ۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکر گزار تیرے لئے کر سکتا ہے ہماری طرف سے تیرے