تحفۂ قیصریہ — Page 262
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۲ تحفہ قیصریہ (10) میں ہم یہ علامتیں پاویں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی موت اور انصاف کے دن کو یاد کر کے ایسے بزرگ پیشوا کی اہانت نہ کریں بلکہ سچی تعظیم اور سچی محبت کریں ۔ غرض یہ وہ پہلا اصول ہے جو ہمیں خدا نے سکھلایا ہے جس کے ذریعہ سے ہم ایک بڑے اخلاقی کے وارث ہو گئے ہیں۔ اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانوں میں مشہور ہے۔ سو مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آج کل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں ۔ بے شک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور یشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی بنا صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کے لئے ناحق تلوار میں اٹھائیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہا تک پہنچایا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے مگر پھر بھی یہ عذاب موسیٰ کی لڑائیوں کی طرح بہت سختی اپنے اندر نہیں رکھتا تھا بلکہ جو شخص قبول اسلام کے ساتھ اگر وہ عربی ہے یا جزیہ کے ساتھ اگر وہ غیر عربی ہے پناہ لیتا تھا تو وہ عذاب مل جاتا تھا اور یہ طریق بالکل قانون قدرت کے موافق تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کے عذاب جو وباؤں کے رنگ میں دنیا پر نازل ہوتے ہیں وہ صدقہ خیرات اور دعا اور تو بہ اور خشوع اور خضوع کے ساتھ بیشک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب شدت سے وبا کی آگ بھڑکتی ہے تو طبعا دنیا کی تمام قو میں دعا اور تو بہ اور استغفار اور صدقہ خیرات کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں اور خدا کی طرف رجوع کرنے کے لئے ایک طبعی حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت طبائع