تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 257

روحانی خزائن جلد ۱۲ افترا کیا ۔ پس خدا اُس کو وہ عظمت نہیں دیتا جو راستبازوں کو دی جاتی ہے اور نہ وہ (۵) قبولیت اور استحکام بخشتا ہے جو صادق نبیوں کے لئے مقرر ہے۔ اور اگر یہ سوال ہو کہ اگر یہی بات سچ ہے تو پھر دنیا میں ایسے مذہب کیوں پھیل گئے جن کی کتابوں میں انسانوں یا پتھروں یا فرشتوں یا سورج اور چاند اور ستاروں اور یا آگ اور پانی اور ہوا وغیرہ مخلوق کو خدا کر کے مانا گیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے مذہب یا تو ان لوگوں کی طرف سے ہیں جنہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ الہام اور وحی کے مدعی ہوئے بلکہ اپنی فکر اور عقل کی غلطی سے مخلوق پرستی کی طرف جھک گئے ۔ اور یا بعض مذہب ایسے تھے کہ در حقیقت خدا کے کسی بچے نبی کی طرف سے ان کی بنیاد تھی لیکن مرور زمانہ سے ان کی تعلیم لوگوں پر مشتبہ ہوگئی ۔ اور بعض استعارات یا مجازات کو حقیقت پر عمل کر کے وہ لوگ مخلوق پرستی میں پڑ گئے ۔ لیکن دراصل وہ نبی ایسا مذہب نہیں سکھاتے تھے ۔ سوایسی صورت میں ان نبیوں کا قصور نہیں کیونکہ وہ صحیح اور پاک تعلیم لائے تھے بلکہ جاہلوں نے بدنہمی سے ان کی کلام کے الٹے معنی کئے ۔ سوجن جاہلوں نے ایسا کیا انہوں نے یہ دعوئی تو نہیں کیا کہ ہم پر خدا کا کلام نازل ہوا ہے اور ہم نبی ہیں بلکہ نبوت کی کلام کو اجتہاد کی غلطی سے انہوں نے الٹا سمجھا۔ سو یہ غلطیاں اور گمراہیاں اگر چہ گناہ میں داخل ہیں اور خدا تعالیٰ کی نظر میں مکروہ ہیں مگر ان کے پھیلنے کو خدا تعالیٰ اس طرح پر نہیں روکتا جس طرح اس مفتری کی کارروائی کو روکتا ہے جو خدا پر افترا کرتا ہے ۔ کوئی خواہ زمینی ہے خواہ آسمانی ایسے مفتری کو مہلت نہیں دیتی جو ایک جھوٹا قانون بنا کر پھر سلطنت کی طرف منسوب کرتا ہے کہ وہ قانون اس گورنمنٹ سے پاس ہو کر نکلا ہے اور نہ کوئی سلطنت جائز رکھتی ہے کہ کوئی شخص جھوٹے طور پر سرکاری سلطنت