تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 587 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 587

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۸۷ تحفه غزنویه اس سے انکار کرے تو کرے نیک بخت اور متقی آدمی تو ہرگز اس سے انکار نہیں کرے گا اب بتلاؤ کہ حضرت مسیح کی موت پر اجماع تو ہوا زندگی پر کہاں اجماع ثابت ہے برابر تفسیروں والے ہی لکھ جاتے ہیں کہ یہ بھی قول ہے کہ تین دن یا تین گھنٹے کے لئے مسیح مر بھی گیا تھا گویا مسیح کے لئے دو موتیں تجویز کرتے ہیں ۔ میتہ الاولی (۵۴) و ميتته الاخری اور امام مالک کا قول ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے مر گیا۔ یہی قول امام ابن حزم کا ہے ۔ معتزلہ برابر اس کی موت کے قائل ہیں اور بعض صوفیہ کرام کے فرقے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسی مسیح مر گیا اور اس کے خلق اور خو پر کوئی اور شخص اسی اُمت میں سے دنیا میں آئے گا اور بروزی طور پر وہ مسیح موعود کہلائے گا ۔ اب دیکھو جتنے منہ اتنی ہی باتیں اجماع کہاں رہا۔ اجماع صرف موت پر ہوا اور یہی اجماع آپ لوگوں کو ہلاک کر گیا ۔ اب روافض کی طرح حضرت ابو بکر کو کوستے رہو جنہوں نے آپ کے اس عقیدہ کی بیخ کنی کی۔ اعلموا رحمكم الله ان حاصل كلامنا هذا ان الاجماع على موت المسيح عيسى بن مريم وغيره من النبيين الذين بعثوا قبل سيدنا ورسولنا المصطفى صلى الله عليه وسلم ثابت متحقق بالنصوص الحديثية القطعية والروايات الصحيحة المتواترة۔ ويعلم كل من عنده علم الحديث ان هذا الاجماع قد انعقد في ناد محشود و محفل مشهود عند اجتماع جميع بدور الاصحاب وبحور الالباب۔ فما تناضلوا بالانكار وما ردّوا رأى امامهم المختار۔ وما ذكروا شيئا من هفوته۔ وما صالوا على فوهته ۔ بل سكنت عند بيان الصديق قلوبهم۔ ومالت الى السلم حروبهم۔ ووجدوا البرهان المحكم والدليل القوى الجليل ۔ فتـحـامـوا القال والقيل۔ وصقل الخواطر۔