تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 577 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 577

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۷ تحفه غزنویه بدی کا بدی کے ساتھ جواب دوں بلکہ اگر اسلامی شریعت میں جھوٹ بولنا حرام اور گناہ نہ ہوتا تو میں بعوض آپ کے کذاب کہنے کے آپ کو صدیق کہتا اور بعوض اس کے کہ آپ نے محض دروغگو ئی سے مجھے ذلیل اور شکست یا فتہ قرار دیا آپ کو معزز اور فتحیاب کے نام سے پکارتا ۔ قولہ ۔ تیسرا جھوٹ اسی صفحہ سطر ۲۷ میں جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کا حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام نبیوں کی موت پر اجماع ہو جانا یہ بھی سفید جھوٹ ہے ۔ اصحاب کرام تو لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے سب سے ثبوت دینا تو مشکل ہے۔ اقول ۔ اس جگہ مجھے آپ لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے کہ کیسے خدا نے عقل و علم اور دیانت کو سینوں میں سے چھین لیا۔ کیا اسی مایہ علمی پر آپ لوگ مولوی کہلاتے ہیں اور ایک دوسرے کا نام علماء کرام اور صوفیہ عظام رکھتے ہیں ۔اے قابل رحم نادان یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام گذشتہ نبیوں کی موت کی نسبت صحابہ کرام (۳۵) کا اجماع ہو گیا تھا اور جس طرح خلافت ابو بکر رضی اللہ عنہ پر اجماع پایا گیا ہے اسی قسم کا بلکہ اس سے افضل و اعلیٰ یہ اجماع تھا اور اگر کوئی جرح قدح اس اجماع پر ہوتا ہے تو اس سے زیادہ جرح قدح خلافت مذکورہ کے اجماع پر ہو گا۔ در حقیقت یہ اجماع خلافت ابوبکر کے اجماع سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ اس میں کوئی ضعیف قول بھی مروی نہیں جس سے ثابت ہو جو کسی صحابی نے حضرت ابوبکر کی مخالفت کی یا تخلف کیا یعنی جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر بطور استدلال کے یہ آیت پڑھی کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ جس کا یہ ترجمہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہے اس میں کوئی جز الوہیت کی نہیں اور اس سے پہلے تمام رسول ال عمران : ۱۴۵