تحفۂ غزنویہ — Page 576
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۶ تحفه غزنویه میں خلت کے یہ معنے بھی کئے جائیں گے کہ حضرت مسیح کو زندہ مع جسم عنصری آسمان پر پہنچا دیا گیا ہے ۔ لہذا اس تشریح سے بطور حفظ ما تقدم پہلے سے ہی ان خیالاتِ فاسدہ کارڈ کر دیا۔ اب اس تمام تحقیق کے رُو سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے ان معنوں میں کوئی جھوٹ نہیں بولا بلکہ آپ ناراض نہ ہوں آپ خود بوجہ ترک معنی قرآن اس قول شنیع دروغگو ئی کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ میں آپ کو ہزار روپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں اگر آپ کسی قرآن شریف کی آیت یا کسی حدیث قومی یا ضعیف یا موضوع یا کسی قول صحابی یا کسی دوسرے امام کے قول سے یا جاہلیت کے خطبات یا دوا دین اور ہر ایک قسم کے اشعار یا اسلامی فصحاء کے کسی نظم یا نثر سے یہ ثابت کر سکیں کہ خلت کے معنوں میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری ۴۴ آسمان پر چلا جائے ۔ خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں اوّل خلت کا بیان کرنا اور پھر ایسی عبارت میں جو بموجب اصول بلاغت و معانی تفسیر کے محل میں ہے صرف مرنا یا قتل کئے جانا بیان فرمانا۔ کیا مومن کے لئے یہ اس بات پر حجت قاطع نہیں ہے کہ خلت کے معنے اس محل میں دو ہی ہیں یعنی مرنا یا قتل کئے جانا ۔ اب خدا کی گواہی کے بعد اور کس کی گواہی کی ضرورت ہے۔ الحمد لله ثم الحمد للہ کہ اسی مقام میں خدا تعالیٰ نے میری سچائی کی گواہی دے دی اور بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے مرنا یا قتل کئے جانا ہے ۔ آپ نے تو اس مقام میں اپنے اس اشتہار میں میری نسبت یہ عبارت لکھی ہے کہ ایسا جھوٹ بولا ہے کہ کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم اور حیا کے آدمی کا کام نہیں ۔ لیکن یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان ہے کہ وہی جھوٹ قرآنی شہادت سے آپ پر ثابت ہو گیا ۔ اب بتلائیے کہ میں آپ کی نسبت کیا کہوں ۔ آپ نے ناحق جلد بازی کر کے میرا نام دروغگو رکھا لیکن میں نہیں چاہتا کہ ۔