تحفۂ غزنویہ — Page 575
روحانی خزائن جلد ۱۵ تحفه غزنویه معنوں کی تکمیل کے لئے اس کو بھی بیان فرما تا مثلاً یہ کہنا افأئن مات او قتل او رفع الى السماء بجسمه كما رُفع عيسى انقلبتم علی اعقابکم ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ سارے نبی پہلے اِس سے گذر چکے ہیں پس اگر یہ نبی بھی مر جائے یا قتل کیا جائے یا عیسی کی طرح مع جسم آسمان پر اُٹھایا جائے تو کیا تم اس دین سے پھر جاؤ گے ۔ اب اے عزیز کیا تو خدا پر اعتراض کرے گا کہ وہ اس تیسری شق کا بیان کرنا بھول گیا اور صرف دوشق بیان کئے ۔ لیکن عظمند خوب جانتے ہیں کہ لفظ خلت جو ایک تشریح طلب لفظ تھا اس کی تشریح صرف موت یا قتل سے کرنا اس بات پر قطعی دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس مقام میں خلت کے معنے یا موت یا قتل ہے اور کچھ نہیں اور یہ ایک ایسا یقینی امر ہے جو اس سے انکار کرنا گویا خدا کی اطاعت (۴۳) سے خارج ہونا اور اس پر افترا کرنا ہے ۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے اسی آیت میں اپنے ہی منہ سے بیان فرما دیا کہ خلت کے معنے یا مرنا یا قتل کئے جانا ہے تو اس سے مخالف پولنا كذب عظیم اور ایک بڑا افترا ہے اور صغائر میں سے نہیں ہے بلکہ کبیرہ گناہ ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک خلت کے معنے دو میں ہی محصور ٹھہرے یعنی مرنا یا قتل کئے جانا تو اس سے زیادہ افترا اور دروغ کیا ہوگا کہ جس طرح نصاری نے خواہ نخواہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اسی طرح خواہ نخواہ بغیر دلیل اور سلطان مبین کے خلت کے معنوں میں آسمان پر جسم عنصری اُٹھائے جانا داخل سمجھا جائے ہاں اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوگا کہ جبکہ ائمہ لغت عرب نے بھی خلت کے معنے کہیں یہ نہیں لکھے کہ کوئی شخص زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلا جائے تو کیا حاجت تھی کہ خدا تعالیٰ نے آفَابِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ کے ساتھ لفظ خلت کی تشریح فرمائی تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ فیج اعوج کے زمانہ