تحفۂ غزنویہ — Page 573
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۳ تحفہ غزنویه پہلے نبی دنیا سے گذر گئے اور مر گئے ۔ اور الف لام سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی ان میں سے موت سے خالی نہیں رہا۔ ایسا ہی تفسیر تبصير الرحمان و تيسير المنان للشيخ العلامه زين الدين على المهائمی ۔ زیر آیت قد خلت لکھا ہے قد خلت ـ منهم من مات ومنهم من قتل فلا منافات بين الرسالة والقتل والموت ۔ دیکھو صفحہ ۱۷۷۔ جلد پہلی ۔ تبصیر الرحمان - یعنی گذشتہ انبیاء ۴۱) دنیا سے اس طرح گزر گئے کہ کوئی مر گیا اور کوئی قتل کیا گیا ۔ پس نبوت اور موت اور قتل میں کچھ منافات نہیں ۔ ایسا ہی تفسیر جامع البيان للشيخ العلامه سيّد معين الدين ابن شیخ سید صفی الدین صفحہ ۲۱ میں زیر آیت قد خلت من قبله الرسل لكها ہے۔ قد خلت من قبله الرسل بالموت او القتل فيخلو محمد صلى الله عليه وسلم ايضًا یعنی تمام نبی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے موت کے ساتھ یا قتل کے ساتھ دنیا سے گذر گئے ۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دنیا سے گذر جائیں گے۔ایساہی حاشیه غاية القاضي وكفاية الراضي على تفسير البيضاوى جلد۳ صفحه ۶۸ مقام مذکور کے متعلق یہ لکھا ہے ۔ لیس ( رســولـنـا صلى الله عليه وسلم) متبرء عن الهلاك كسائر الرسل ويخلو كما خلوا ۔ یعنی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ پہلے اُن سے تمام پیغمبر مر چکے ہیں وہ بھی مریں گے۔ اور جیسا کہ وہ اس دنیا سے گذر گئے وہ بھی گزر جائیں گے۔ ایسا ہی تفسیر جمل میں جس کا دوسرا نام فتوحات الہیہ ہے یعنی جلد ایک صفحہ ۳۳۶ میں زیر تفسیر آيت وما محمد۔ قد خلت پہ لکھا ہے۔ کانهم اعتقدوا انه ليس كسائر الرسل في انه يموت كما ماتوا - يعني بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو گویا یہ گمان ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے نبیوں کی طرح نہیں مریں گے بلکہ زندہ رہیں گے سو