تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 570 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 570

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۰ تحفه غزنویه اسی طرح جب ہم نے دیکھا کہ اس محل میں تمام احادیث کا مقصود مشترک یہ ہے کہ تو فیتنی کے معنے ہیں امتنی تو بصحت نیت اس کا ذکر کر دیا۔ اس طرز کے بیان کو <mark>جھوٹ</mark> سے کیا مناسبت اور <mark>جھوٹ</mark> کو اس سے کیا نسبت ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ امام بخاری کا مدعا اس فقرہ متوفیک ممیتک سے یہ ثابت کرنا ہے کہ لمّا تو فیتنی کے معنے ہیں امتنی اور اسی لئے وہ دو مختلف محل کی دو آیتیں ایک جگہ ذکر کر کے اور ایک دوسرے کو بطور تظاہر قوت دے کر دکھلاتا ہے کہ ابن عباس کا یہ منشاء تھا کہ لما تو فیتنی کے معنی ہیں امتنی ۔ اس لئے ہم نے بھی بطور تاویل اور مال کے یہ کہہ دیا کہ حدیثوں کے رُو سے لمـا تـو فیتنی کے معنے اتنی ہے بھلا اگر یہ بھی نہیں ہے تو تو ہی بتلا کہ جبکہ منو فیک کے معنے ہے۔ ممیتک ہوئے تو اس قول ابن عباس کے رُو سے لمّا تو فیتنی کے کیا معنے ہوئے؟ کیا ہمیں ضرور نہیں کہ ہم لما تو فیتنی کے معنے ایسی حدیث کی رُو سے کریں جیسی کہ حدیث کے رُوسے متوفیک کے معنے کئے گئے ہیں۔ اگر ہم اس بات کے مجاز ہیں کہ ایک ہی محل کی دو آیتوں کی تفسیر میں ایک آیت کی تفسیر کو بطور حجت پیش کر دیں تو اس میں کیا <mark>جھوٹ</mark> ہوا کہ ہم نے لکھ دیا کہ حدیث کے رو سے لمّا توفّیتنی کے معنے لما امتنى ہیں۔ جبکہ توفی کے ایک صیغہ میں حدیث کی رو سے یہ مستفاد ہو چکا کہ اس کے معنے وفات دینا ہے تو وہی استدلال دوسرے صیغہ میں بھی جاری کرنا کیوں حدیثی استدلال سے باہر سمجھا جاتا ہے اور یہ کہنا کہ ہم اسی قول کو حدیث کہیں گے جس کا اسناد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو حمد اس طور کے قول قرآن شریف میں صدہا پائے جاتے ہیں کہ متکلم کے تو اور الفاظ اور اور اور پیرا یہ تھا مگر خدا تعالیٰ نے الگ پیرایہ میں بیان فرمایا اور پھر کہا کہ یہ اُسی کا قول ہے افسوس کہ میرے بخل کے لئے یہ لوگ اب قرآن شریف پر بھی اعتراض کرنے لگے ۔ اب تو خطرناک علامتیں ظاہر ہو گئیں خدا اپنا فضل کرے۔ آمین۔ منہ