تحفۂ غزنویہ — Page 569
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶۹ تحفه غزنویه ابراہیم کے دو بیٹے تھے اسمعیل و اسحاق کیونکہ ظاہر واقعات بغیر تاویل کے یہی ہیں۔ دوسری قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف میں کفار یا گذشتہ مومنوں کے کلمات کچھ تصرف کر کے بیان فرمائے گئے ہیں اور پھر کہا گیا کہ یہ انہی کے کلمات ہیں اور یا جو قصے توریت کے ذکر کئے گئے ہیں اور اُن میں بہت سا تصرف ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ جس اعجازی طرز اور طریق اور فصیح فقروں اور دلچسپ استعارات میں قرآنی عبارات ہیں اس قسم کے فصیح فقرے کا فروں کے منہ سے ہرگز نہیں نکلے تھے اور نہ یہ ترتیب تھی بلکہ یہ ترتیب قصوں کی جو قرآن میں ہے توریت میں بھی بالالتزام ہرگز نہیں ہے۔ حالانکہ فرمایا ہے إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ ابْراهِيمَ وَمُوسى - اور اگر یہ کلمات اپنی صورت اور ترتیب اور صیغوں کے رُو سے وہی ہیں جو مثلا کافروں کے منہ سے نکلے تھے تو اس سے اعجاز قرآنی باطل ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ فصاحت کفار کی ہوئی نہ قرآن کی اور اگر وہی نہیں تو بقول تمہارے کذب لازم آتا ہے کیونکہ اُن لوگوں نے تو اور اور لفظ اور اور ترتیب اور اور صیغے اختیار کئے تھے اور جس طرح متوفیک اور تو فیتنسی دو مختلف صیغے ہیں ۔ اسی طرح صد ہا جگہ ان کے صیغے اور قرآنی صیغے با ہم اختلاف رکھتے تھے مثلاً توریت میں ایک قصہ یوسف سے نکال کر دیکھ لو اور پھر قرآن شریف کی سورہ یوسف سے اس کا مقابلہ کرو تو دیکھو کہ کس قدر صیغوں میں اختلاف اور بیان میں کمی بیشی ہے بلکہ بعض جگہ بظاہر معنوں میں بھی اختلاف ہے ایسا ہی قرآن نے بیان کیا ہے کہ ابراہیم کا باپ آزر تھا لیکن اکثر مفسر لکھتے ہیں ﴿۳۸﴾ کہ اس کا باپ کوئی اور تھا نہ آزر ۔ اب اے نادان جلد تو بہ کر کہ تو نے پادریوں کی طرح قرآن پر بھی حملہ کر دیا۔ صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے کہ انما الأعمال بالنيات الاعلى: ۲۰۱۹