تحفۂ غزنویہ — Page 562
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶۲ تحفه غزنویه اقول ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ سب صفات آپ لوگوں میں ہیں بلکہ آپ لوگ دہریوں سے بدتر ہیں کیونکہ دہر یہ تو خدا تعالیٰ کی ہستی پر اپنے زعم باطل میں دلیل نہیں پاتا مگر آپ لوگ ایمان کا دعویٰ کر کے بھی پھر قابل نفرت جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ آپ لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے تو اس وقت آپ لوگ صریح خدا اور اس کے رسول پر افترا کرتے ہیں اور اگر افترا نہیں کرتے تو تمہیں خدا کی قسم ہے کہ بتلاؤ کہ قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے ۔ افسوس کہ قرآن شریف میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی آیت آیت پڑھتے ہو اور خوب رخوب جانتے ہو کہ سارے قرآن شریف میں ہر جگہ توفی بمعنی قبض روح ہے۔ اور ایسا ہی ! یقین رکھتے ہو کہ تمام حدیثوں میں بھی توفی بمعنی قبض روح ہے اور پھر افترا کے طور پر کہتے ہو کہ اس جگہ پر ۳۲ توفى بمعنی زندہ اُٹھا لینے کے ہیں ۔ پس اگر تم اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا نہیں کرتے تو بتلاؤ اور پیش کرو کہ کس حدیث میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زنده مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے ۔ ہائے افسوس اس قدر جھوٹ اور افترا۔ اے لوگو! کیا تم نے مرنا نہیں کیا کبھی بھی قبر کا منہ نہیں دیکھو گے۔ از افتراء و کذب شما خون شدست دل داند خدا کہ زمیں غم دیں چوں شدست دل بیچم عیاں نشد که شما را بکینه ام زینساں چرا د لیر و دگرگوں شدست دل پھر جبکہ حدیث نبوی سے یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام مع جسم خاکی آسمان پر چلے گئے تھے یا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر سے اُترنے والے ہیں اور قرآن اُن کو اُن لوگوں میں داخل کرتا ہے جو توفی کے حکم کے نیچے ہیں اور معراج کی حدیث اس بات کی تائید کرتی ہے کیونکہ آنحضرت نے معراج کی رات میں حضرت عیسیٰ کو المائدة : ١١٨