تحفۂ غزنویہ — Page 554
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵۴ تحفه غزنویه اور لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ باعث اس کی شوخی اور بیبا کی اور بد زبانی کے جو پیشگوئی کے بعد اور بھی زیادہ ہو گئی تھی جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی اور اُس کی زبان کی چھری آخر اسی پر چل گئی ۔ یہ تو آتھم کی نسبت ہم نے بیان کیا اور احمد بیگ کے داماد کی نسبت ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی دونا نگیں تھیں ۔ ایک احمد بیگ کی موت کے متعلق اور ایک اُس کے داماد کے متعلق ۔ سوتم سن چکے ہو کہ احمد بیگ مدت ہوئی کہ پیشگوئی کی منشاء کے موافق فوت ہو چکا ہے اور اس کی قبر ہوشیار پور میں موجود ہے۔ رہا اس کا داماد سو پیشگوئی کی شرط کی وجہ سے اس کی موت میں تا خیر ڈال دی گئی اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ پیشگوئی شرطی تھی۔ پھر جب احمد بیگ شرط سے لا پروا رہ کر مر گیا تو اس کی موت نے اس کے داماد اور دوسرے اقارب کو یہ موقع دیا کہ وہ ڈریں اور شرط سے فائدہ اُٹھائیں سوالیسا ہی ہوا اور احمد بیگ اور اُس کے داماد کے متعلق جو شرطی الہام تھا اس کی یہ عبارت تھی ۔ ايها المرأة توبى توبى فان البلاء علی عقبک ۔ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ یہ الہام قبل از وقت بمقام ہوشیار پور شیخ مہر علی کے مکان پر بحاضری حافظ محمد یوسف یا منشی محمد یعقوب و نیز بحاضری منشی الہی بخش صاحب آپ کی جماعت میں سے ایک شخص کو جس کا نام عبد الرحیم تھا یا عبد الواحد تھا سنایا گیا تھا اور بعد میں یہ الہام چھپ بھی گیا تھا۔ غرض یہ پیشگوئی شرطی تھی جیسا کہ آئھم کی پیشگوئی شرطی تھی اور اگر وہ شرطی بھی نہ ہوتی تا ہم بوجہ وعید ہونے کے یونس نبی کی پیشگوئی سے مشابہ ہوتی ۔ اور خدا کی باتوں کا صبر سے انجام دیکھنا چاہیے نہ شرارت سے اعتراض ۔ اور فرزند موعود کی نسبت جو اعتراض تھا اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ہمارے مخالفوں کی کچھ ایسی عقل ماری گئی ہے کہ اعتراض کرنے کے