تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 545 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 545

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۴۵ تحفه غزنویه اور انتظار وقت کرو ۔ اگر صرف گالیاں دینا ہے تو میں آپ کا منہ بند نہیں کر سکتا ۔ نہ حضرت موسیٰ ایسی بیہودہ گوئیوں کا منہ بند کر سکے نہ حضرت عیسی بند کر سکے اور نہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بند کر سکے لیکن آپ لوگوں میں اگر کوئی رشید ہو تو اُس کو سوچنا چاہیے کہ میری دعوت کے قبول کرنے کے لئے کس قدر مسلمانوں میں پُر جوش حرکت ہو رہی ہے۔ پشاور سے چل کر راولپنڈی، جہلم، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیر آباد، امرتسر، (۱۵) لاہور، جالندھر، لدھیانہ، انبالہ، پٹیالہ، دہلی، الہ آباد، بمبئی ، کلکته ، مدراس، حیدر آباد دکن غرض کہاں تک بیان کریں پنجاب اور ہندوستان کے تمام شہروں اور دیہات کو دیکھو شاذ نادر ایسا کوئی شہر ہو گا کہ جو اس جماعت کے کسی فرد سے خالی ہوگا۔ اب اگر مسلمانوں کی سچی ہمدردی ہے تو صرف یہ او باشانہ باتیں کافی نہیں ہیں کہ مرزا بار ہالا جواب ہو چکا ہے اور خائب اور خاسر اور نامراد رہا ہے۔ اب ایسے جھوٹ سے تو واقف کار لوگوں کو مردار سے زیادہ بد بو آتی ہے اور کوئی شریف اس کو پسند نہیں کرے گا۔ یوں تو ہندو اور چوہڑے اور چہار اور ادنیٰ سے ادنی لوگ بارہا کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں سے مذہب میں گفتگو کر کے لاجواب کر دیا اور وہ ہمارے ہر مجمع میں لاجواب اور خائب اور خاسر اور نامرادر ہے مگر شریف انسان کو ایسے ناپاک جھوٹ سے نفرت چاہیے۔ اے عزیز اگر ایمان اور مسلمانوں کی ہمدردی کا حصہ ایک ذرہ بھی دل میں موجود ہے تو ان فضول گوئیوں کا اب یہ وقت نہیں ہے۔ اب واقعی طور پر کوئی مقابلہ کر کے دکھلانا چاہیے۔ تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔ قوله - مباہلہ میں کما حقہ علی رؤس الا شہاد رسوا اور ذلیل ہو کر قابل خطاب اور لائق جواب علماء عظام وصوفیہ کرام نہیں رہا۔ اقول ۔ افسوس کہ مباہلہ کا ذکر کر کے اور اس قدر قابل نفرت جھوٹ بول کر