تجلیاتِ الہٰیہ — Page 416
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱۲ تجليات البسه نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہر گز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اسی بنا پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی اور میری نبوت یعنی مکالمہ مخاطبہ الہیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظل ہے اور بجز اس کے میری نبوت کچھ بھی نہیں ۔ وہی نبوت محمد یہ ہے جو مجھ میں ظاہر ہوئی ہے اور چونکہ میں محض ظل ہوں اور امتی ہوں اس لئے آنجناب کی اس سے کچھ کسر شان نہیں ۔ اور یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے ۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے ۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی (۲۶) ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر ۔ یہ تو ممکن ہے کہ کلام الہی کے معنے کرنے میں بعض مواضع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے ۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک کروں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔ اور چونکہ میرے نزدیک نبی اُسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی وقطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔ شریعت کا حامل قیامت تک قرآن شریف ہے۔ پس وہ خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوتا ہے ایک خارق عادت کیفیت اپنے اندر رکھتا ہے اور اپنی نورانی شعاعوں سے اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔ وہ فولادی شیخ کی طرح دل کے اندر ھنس جاتا ہے اور اپنی روحانی قوتوں کے ساتھ مجھے پُر کر دیتا ہے ۔ وہ لذیذ اور فصیح اور راحت بخش ہے اور ایک الہی ہیبت اپنے اندر رکھتا ہے اور غیب کے بیان کرنے میں بخیل نہیں بلکہ غیب کی