تجلیاتِ الہٰیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 597

تجلیاتِ الہٰیہ — Page 415

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱۱ تجليات البسيه اس سوال کا جواب دوطور سے ہے۔ اول یہ کہ انسانی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ رحمت کے نشانوں سے بہت ہی کم فائدہ اُٹھاتا ہے۔ اور ایسا ہی تعصب کی وجہ سے دوسری قسم کے چھوٹے چھوٹے نشانوں کے ٹالنے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی حیلہ نکالتا ہے تاکسی طرح دولت قبول سے محروم رہے۔ چنانچہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوا کہ باوجود ہزارہا نشانوں کے ظاہر ہونے کے قوم کے دلوں پر ایک ذرہ اثر نہ پڑا۔ اگر آپ میری کتاب نزول امسیح “ کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا نے نشانوں کے دکھلانے میں کوئی فرق نہیں کیا۔ دوستوں کے لئے بھی نشان ظاہر ہوئے اور دشمنوں کی تنبیہ کے لئے بھی۔ (۲۳) اور میری ذات کے متعلق بھی اور ایسا ہی میری اولاد کے متعلق بھی نشان ظہور میں آئے ۔ اور جس طرح زمین کا ایک بڑا حصہ سمندر سے بھرا ہوا ہے ایسا ہی یہ سلسلہ خدا کے نشانوں سے بھر گیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی نہ کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔ اور ہر ایک پیشگوئی کسی نہ کسی نشان پر مشتمل ہوتی ہے اور میں نے اس رسالہ میں دس ہزار نشان کا صرف نمونہ کے طور پر ذکر کیا ہے ورنہ اگر وہ سب تحریر کئے جائیں تو وہ کتاب جس میں وہ قلمبند ہوں ہزار جزو سے بھی زیادہ ہو جائے گی ۔ کیا اس قدر غیب کا موج در موج ظاہر ہونا کسی مفتری کے کاروبار میں ممکن ہے۔ میرے نادان مخالفوں کو خدا روز بروز انواع واقسام کے نشان دکھلانے سے ذلیل کرتا جاتا ہے۔ اور میں اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اُس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر الحق سے اور اسمعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسٹی سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہم کلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی اُس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔ اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی (۲۵)