تجلیاتِ الہٰیہ — Page 414
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱۰ تجليات البسيه میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا ۔ میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں ۔ یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا ۔ پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مشت خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا۔ عجب دارم از لطفت اے کردگار پذیرفته چون من خاکسار پسندید گانے بجائے رسند ز ما کهترانت چه آمد پسند چو از قطره خلق پیدا کنی ہمیں عادت اینجا ہویدا کنی یہ بات لکھنے سے رہ گئی کہ مذکورہ بالا الہام میں جو یہ لفظ ہیں ان وعد الله لا يُبدل یعنی خدا کا وعدہ مثل نہیں سکتا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پانچ زلزلوں کا آنا خدا تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا ہاں جو شخص توبہ استغفار کرے گا اور ابھی سے خدا تعالیٰ سے صلح کرے گا اور کوئی سرکشی کی آگ اس میں باقی نہیں رہے گی ۔ خدا اس پر رحم کرے گا مگر اس پر رحم کرنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ پانچ زلزلے نہیں آویں ۲۳ گے ۔ وہ تو ضرور آویں گے مگر ایسا شخص اُن کے صدمہ سے بچ جائے گا کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے وہ اپنے وعدہ میں تختلف نہیں کرتا ۔ اُس کا وعید ٹل سکتا ہے مگر وعدہ نہیں ٹل سکتا جیسا کہ ہم ابھی پہلے بیان کر چکے ہیں۔ ایک اور بات اس جگہ ذکر کے لائق ہے کہ اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ اس سے پہلے صدہا نشان میری تصدیق کے لئے کھلے کھلے ظاہر ہو چکے تھے اور ہزار ہا تک نوبت پہنچ گئی تھی تو پھر اس مہلک طاعون اور ان تباہی انگن زلازل کی کیا ضرورت تھی ۔ کیا وہ صد بانشان کافی نہ تھے؟