تجلیاتِ الہٰیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 597

تجلیاتِ الہٰیہ — Page 407

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۰۳ تجليات البيه سواسی کے مطابق موسم بہار میں یہ زلزلہ آیا۔ اب سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بجز خدا کے کس کی طاقت ہے کہ اس تصریح کے ساتھ پیشگوئی کر سکے۔ میرے ہاتھ میں تو زمین کے طبقات نہیں تھے کہ میں گیارہ مہینے تک ان کو تھام رکھتا اور پھر ۲۵ فروری ۱۹۰۶ ء کے بعد ایک زور کا دھکا دے کر زمین کو ہلا دیتا۔ سواے عزیز و! جبکہ تم نے یہ دونوں زلزلے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے تو اب تمہیں اس بات کا سمجھنا سہل ہے کہ آئندہ پہنچ زلزلوں کی خبر بھی کوئی گپ نہیں ہے۔ اور تم یہ بھی سمجھ سکتے ہو کہ جیسا کہ یہ یقین کرنا انسانی طاقت سے باہر تھا کہ گیارہ ماہ تک اپریل کے زلزلہ کی مانند کوئی زلزلہ نہیں آئے گا بلکہ عین بہار میں ۲۵ فروری ۱۹۰۶ء کے بعد آئے گا۔ ایسا ہی یہ یقین کرنا بھی انسانی طاقت سے باہر ہے کہ اب بعد اس کے پانچ شدید زلزلے آئیں گے جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ اپنے چہرہ کی چمکار دکھلائے گا یہاں تک کہ ان کو جو خدا کی ہستی کے قائل نہیں اقرار کی طرف کھینچے گا۔ اور پھر بعد اس کے امن ہو جائے گا اور دنیا اپنی معمولی حالت پر آجائے گی اور ایک مدت تک ایسے زلزلے (۱۳) پھر کبھی نہیں آئیں گے۔ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی علم طبقات الارض کا اس تصریح اور تفصیل کو بتلا نہیں سکتا بلکہ وہ خدا جو زمین اور آسمان کا خدا ہے وہ اپنے خاص رسولوں کو یہ اسرار بتلاتا ہے نہ ہر ایک کو تا دنیا کے لوگ کفر اور انکار سے بچ جائیں اور تا وہ ایمان لائیں اور جہنم کے عذاب سے نجات پائیں۔ سود یکھو میں زمین و آسمان کو گواہ کرتا ہوں کہ آج میں نے ن پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ۔ سو ۲۸ فروری ۱۹۰۶ء کا زلزلہ عین بہار میں آیا جس سے آٹھے آدمی مر گئے اور انہیں مجروح ہوئے اور صد با مکان گر گئے ۔ اور اسی زلزلہ کے بارے میں پیسہ اخبار ۶ ار مارچ ۱۹۰۶، صفحه ۵ تیسرے کالم میں لکھا ہے کہ ۲۸ فروری ۱۹۰۶ ء کی شب کے بھونچال میں موضع دوده پور ضلع انبالہ تحصیل جگا دھری کے سارے آدمی رات کو سوئے ہوئے مر گئے ۔ صرف تین آدمی بچے اور غیر مضلع سہارنپور میں زلزلہ کی رات کو ایک سوکھا کنواں پانی سے بھر گیا۔ منہ