تجلیاتِ الہٰیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 597

تجلیاتِ الہٰیہ — Page 406

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۰۲ تجلیات الہیہ ایسا نہ ہو کہ تم خدا کے الزام کے نیچے آجاؤ ۔ تم سن چکے ہو کہ ۴ ر اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کی پیشگوئی ایک برس پہلے میں نے اخباروں میں شائع کی تھی۔ اور اس میں صرف یہی لفظ نہیں تھا کہ زلزلہ کا دھکا بلکہ یہ الہام بھی تھا کہ عفت الديار محلها ومقامها یعنی ملک پنجاب کے بعض حصوں کی عمارتیں تباہ اور ناپدید ہو جائیں گی۔ سواب مجھے اس بات کے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ کس صفائی سے وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ پھر بعد اس کے اُسی اپریل کے مہینہ میں یہ دوسری پیشگوئی خدا تعالیٰ کی وحی سے میں نے شائع کی تھی کہ جیسا کہ یہ زلزلہ ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کا موسم بہار میں آیا ایسا ہی ایک دوسرا زلزلہ موسم بہار میں ہی آئے گا اور اس سے پہلے نہیں آئے گا اور ضروری ہے کہ ۲۵ / فروری ۱۹۰۶ ء تک وہ زلزلہ نہ آوے۔ سو گیارہ مہینہ تک کوئی زلزلہ نہ آیا اور جب ۲۵ فروری ۱۹۰۶ ء گزرگئی تب ۲۷ / فروری ۱۹۰۶ء کی رات کو عین وسط بہار میں ایک بجے کے وقت ایسا سخت زلزلہ آیا کہ انگریزی اخبارات سول وغیرہ کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ یہ زلزله ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے برابر تھا اور رام پور شہر (1) علاقہ شملہ اور بہت سے اور مقامات میں جانوں اور عمارتوں کا نقصان ہوا۔ یہ وہی زلزلہ تھا جس کی نسبت گیارہ مہینے پہلے خدا تعالیٰ کی وحی نے یہ خبر دی تھی کہ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ، افسوس کہ بعض متعصب مولوی محض ہٹ دھرمی سے اس کھلی کھلی پیشگوئی پر گرد ڈالنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو دھوکا دے کر یہ کہتے ہیں کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت تو یہ لکھا گیا تھا کہ وہ قیامت کا نمونہ ہوگا مگر یہ زلزلہ تو قیامت کا نمونہ نہیں۔ اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنة اللہ علی الکاذبین میں بار ہارا اپنے رسالوں اور اشتہارات میں یہ پیشگوئی شائع کر چکا ہوں کہ کئی زلزلے آئیں گے اور ایک قیامت کا نمونہ ہوگا یعنی اُس میں بہت سی جانوں کا نقصان ہوگا مگر ایک زلزلہ بہار میں آئے گا جیسا کہ ۴ ر اپریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ بہار کے دنوں میں آیا تھا اور اس کی نسبت یہ الہام تھا